دوستو میں ایک شریف بیوی تھی کیونکہ میں نے کبھی اپنے شوہر کے سوا کسی سے بھی سیکس نہیں کیا تھا میری بہت سی دوستوں نے سیکس کا مزہ لیا تھا لیکن میں میں نے اسکو ایک امانت سمجھا ہمیشہ شوہر کے لئے پھر میری شادی ہوئی اور میں ایک کنواری لڑکی کے روپ میں شوہر کو ملی اور میرے شوہر میری سیل پیک چوٹ کو دیکھ کر انتہائی خوش ہوتے میں بھی دل و جان سے انکو چاہتی تھی.پھر ایسا ہوا کہ میرے شوہر کو سنگاپور میں ایک اچھی جوب آفر ہوئی جو کہ تین سال کے لئے تھی انہوں نے بہتر مستقبل کے لئے ہاں کہہ دی اور شادی کے سات مہینوں میں ہی مجھے روتا چھوڑ کر وہ چلے گئے
پھر وہ وہاں سیٹ ہو گئے چار ماہ تک تو انکی جاب برقرار رہی پھر اچانک جس فرم میں وہ جاب کرتے تھے وہ بند ہوگئی اس کی وجہ سے وہ بیروزگار ہوگئے تھے اور وہ واپس آنا بھی نہیں چاہتے تھے اور گھر میں بھی خرچے کا مسلہ آگیا اور پھر انہوں نے مجھ کو ان کا ساتھ دینے کا کہا اور مجھ کو جاب کرنے کا بولا میں ba پاس تھی

لیکن کہیں کبھی جاب نہیں کی تھی کچھ عرصہ میں جاب ڈھونڈتی رہی پھر میری بھابھی نے ان کے کلاس فیلو کی کمپنی بھیجا میں وہاں گئی اپنی ڈاکومنٹس جمع کیں 2 دن بعد مجے سلیکٹ کرلیا گیا اگلے دیں میں نے کمپنی جوائن کرلی. آفس میں میرا کام .شاھد نذیر جو کہ بھابھی کے کلاس فلو تھے کی اسسٹنٹ کا تھا
شاھد نذیر بہت اچھے آدمی تھے انہوں نے مجھے سارا کام سکھایا اور جو کام میں نہیں کرسکتی تھی وہ خود کردیتے میں ان کے کیبن میں ہی بیٹھ کر کام کرتی رہتی تھی انہوں نے ہمیشہ مجھے ٹیبل کی دوسری سائیڈ سے ہی کام وغیرہ کا بولا تھا میں کبھی ان کے قریب نہیں گئی لیکن وہ میرے بوبز کو اکثر دیکھتے رهتے تھے جس کا میں نے کبھی برا نہیں منایا تھا میں اس کو مردوں کی فطرت سمجھتی تھی پھر ایک دیں مجھے ان سے کچھ سمجھنا تھا تو میں نے ان کو بولا سر میں اس طرف آجاؤں یہ سمجھنے کے لئے تو انہوں نے بولا آجاؤ میں جب انکی سائیڈ پر گئی تو انہوں نے مجھے سارا کام سمجھایا اور خوب ہیلپ کی سمجھنے میں پھر اچانک میری نظران کے لنڈ کی طرف گئی تو انکا لنڈ باہر نکلا ہوا تھا میں ہنس دی تو اس نے بولا سونیا کیوں ہنسی ہو میں بولی سر آپ کا کچھ باہر نکلا ہوا ہے وہ بولے کیا میں بولی نیچے جب اس نے دیکھا پھر وہ بھی ہنس دئے اور بولے سوری لیکن مجھ کو یہ نکال کر کام کرنے کی عادت ہے اسلئے میں تم کو اس طرف نہیں بلاتا انکا لنڈ بے انتہا بڑا تھا خیر میں اپنی سیٹ پر واپس چلی گئی مجھ کو انکا لنڈ پسند آیا تھا اور پھر کام ختم کرکے گھر چلی گئی مجھ کو انہوں نے ایک الگ ہی نشے سے آشنا کیا تھا رات کو دیرتک مجھے نیند نہیں آئی.شاھد نذیر کا لنڈ میرے شوہر سے بڑا اور موٹا تھا اور اس لنڈ نے میری چوت میں ایک آگ سے لگا دی تھی مجھ کو شوہر یاد آرہے تھے جس سے میں چدوا کر خوش تھی اگلے دیں میں تھکی تھکی سے تھی کیونکہ نیند بھی پوری نہیں تھی آفس میں بار بار میرا دل کرتا کہ میں پھر سے انکے قریب جاؤں لیکن ہمت نہیں تھی پھر میں جلدی گھر آگئی پھر میں نے سوچا کہ انکا لنڈ دیکھنے میں کیا حرج ہے میں کونسا ان سے چدواؤں گی
پھر میں آفس میں اکثر ان کے قریب جاتی جسکو انہوں نے محسوس کرلیا تھا لیکن انہوں نے منع نہیں کیا اور نا کبھی مجھے چھونے کی کوشش کی پھر اکثر جاب میں قریب جاتی تو وہ ٹھیک سے بیٹھ جاتے تاکہ میں انکا لنڈ ٹھیک سے دیکھ سکوں میں بھی ان کے لنڈ کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کی پیاس بجھاتی پھر کچھ دنوں سے میں نے محسوس کیا کہ .شاھد نذیر صاحب کچھ پریشان تھے میں نے ایک دو بار پوچھا تو انہوں نے بولا کوئی مسلہ نہیں ہے پھر ایک دیں ہم شام کو دیر تک کام کرہے تھے انہوں نے سارا دن کوئی کام نہیں کیا.مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے پوچھا سر کیا آپ مجھے دوست سمجھتے ہیں تو انہوں نے کہا ہاں تو میں نے پوچھا سر آپ کچھ دیں سے پریشان لگ رہے ہیں کیا آپ مجھ سے شئیر کرسکتے ہیں انہوں نے بولا پریشان ہوں لیکن تم کو نہیں بول سکتا میں بولی گھریلو مسلہ ہے تو انہوں نے بولا نہیں میں بولی جب گھر کا مسلہ نہیں تو آپ کھل کر مجھ کو بتاسکتے ہیں انہوں نے کہا تم کو برا لگے گا
میں نے بولا نو میں برا نہیں مانوں گی شاید میں آپکے کام آسکوں پلیز سر مجھے بولیں تو اس نے بولا کوئی گندی بات ہوئی تب بھی برا نہیں مانو گی میں بولی ہاں تو اس نے بولا میری ایک گرل فرینڈ ہے ہم بہت فری ہیں اور کی بار ہمارا ملن ہوچکا ہے اب وہ چلی گئی ہے ہمیشہ کے لئے لاہور اور سیکس کسی سے نہیں کر پارہا ہوں اس کی وجہ سے ٹینشن میں ہوں تم کسی سے مجھے ملادو تو مہربانی ہوگی آخر تم میری دوست ہو میں بولی ok سر میں کوشش کروں گی کہ آپ کے کام آسکوں لیکن انہوں نے بولا آج کرنا ہوگا میں بولی آج تو مشکل ہے کسی کو ڈھونڈھنا اگر آپ برا نا مانیں تو میں آپکا پانی اپنے ہاتھوں سے نکال دوں انہوں نے بولا تم کو برا لگے گا میں بولی نہیں سر وہ بولے ٹھیک ہے ڈور کو لاک کردو ایسا نہ ہو کہ کوئی آجاۓ اور تمہاری بدنامی ہو میں نے ڈور کو لاک کیا اور انکی ٹیبل کے پاس آگئی اور بلکل انکے لنڈ کے سامنے بیٹھ گئی انکا موٹا لنڈ ہارڈ نہیں تھا میں نے جب اس کو ہاتھ لگانا سٹارٹ کیا ٹوہ وہ بھی کھڑا ہونے لگا جب فل کھڑا ہوا تو ایک سانپ کی طرح لگ رہا تھا انکا لنڈ آٹھہ انچ تک تھا اور میرے شوہر سے کافی بڑا تھا میں نے اپنے ہاتھ میں اپنی تھوک لگائی اور ان کی مٹھہ مارنے لگی ان کے منہ سے آوازیں نکلنے لگی اوہ اوہ سونی تم بہت اچھی ہو تم نے میرے لنڈ کی آگ کو بجھانے کی کوشش کی یہاں میری چوت بھی ایسے لنڈ کو دیکھ کر گیلی ہوچکی تھی میرے بوبز تن چکے تھے میں اپنے ہاتھ میں اس گرم لنڈ کو پیار سے مسل رہی تھی
مجھکو بھی مزہ آرہا تھا سات مہینوں بعد میں نے لنڈ کو ہاتھ میں لیا تھا پھر اس نے پوچھا سونی تم نے کسی سے چدوایا ہے کبھی میں بولی ہاں تو بولے کس سے میں بولی اپنے شوہر سے انہوں نے پوچھا کسی اور سے میں بولی نہیں سر پھر اس نے بولا کیا تم لنڈ منہ لی چکی ہو میں نے شرماتے ہوے کہا ہاں تو انہوں نے بولا میرا لو نا پلیز میں نے ان کا لنڈ کو چوم لیا اور پھر منہ میں لے لیا میں فل سیکس میں ڈوب چکی تھی اس کا لنڈ منہ میں پورا نہیں جارہا تھا لیکن میں تیزی سے چوس رہی تھی انہوں نے میرا سر پکڑا ہوا تھا اور آگے پیچھے کر رہے تھے سمجھو میرے منہ کو چود رہے تھے پانچ منٹ میں وہ میرے منہ میں ہی فارغ ہوےمیں نے ان کی منی کو منہ میں لیا اور پی گئی وہ بھی خوش تھے پھر میں اٹھی واشروم میں جاکر کلی کی منہ صاف کیا بھر آئی انہوں نے بولا بہت دیر ہوگئی ہے چلو چلتے ہیں پھر انہوں نے مجھے 2000 روپے دئے اور بولے یہ رکھہ لو میں بولی یہ کیا ہیں اس نے بولا کچھ نہیں میں بولی میں کوئی بازاری نہیں سر دوست ہوں تو وہ بولے میں بھی تم کو دوست سمجھتا ہوں بازاری نہیں سمجھی تم لیکن میں نے لینے سے انکار کیا تو وہ بولے میں زبردستی بھی دے سکتا ہوں میں ہنس کر بولی دیدو تو وہ ایک دم میرے قریب آۓ اور اوپر سے میرے قمیض میں ہاتھ ڈالکر میری برا میں ہاتھ ڈال دیا اور روپے رخ دئے اور ھلکے سے میری چھاتی کو دبادیا اور میرے منہ سے سسکاری نکلی اوہ پھر اس نے ہاتھ نکال دیا پھر ہم آفس سے نکل آۓ اس نے مجھے گھر ڈراپ کیا میں آج بہت خوش تھی کہ آج میرے جسم کو کسی نے پیار سے چھوا تھا رات کو سو تو خواب میں کی بار انکے لنڈ کو دیکھا اور اپنی چوت چدوائی ان سے اگلے دیں آفس جاتے ہوے میں نے لان کا سوٹ پہنا میں نے رات میں ہی سوچ لیا تھا کہ میں ایک بار تو چدواؤں گی .شاھد نذیر سے لان کے سوٹ میں میرا جسم نظر آتا تھا چونکہ ہمارے کیبن میں کوئی کم ہی آتا تھا تو مجھے اسکو جسم دکھانے میں کسی کا ڈر بھی خاص نہیں تھا آفس پہنچ کر میں کیبن میں گئی تو .شاھد نذیرنہیں آے تھے میں واشروم گئی اور برا کو اتار دیا اب تو میرے ممے صاف نظر آنے لگے تھے مجھ کو ایئر کنڈیشن میں اس طرح بہت مزہ آرہا تھا پھر .شاھد نذیر بھی آگۓ ہم کام کرتے رہے انکی نظر میرے مموں پر تھی مجھ کو بہت مزہ آرہا تھا پھر میرے گلے سے دوپٹہ سرک گیا تو میں نے صحیح نہیں کیا وہ کام چھوڑ کر میرے مموں کو دیکھنے لگے میں نے انکو دیکھ کر پوچھا کیا دیکھہ رہے ہیں سر تو وہ بولے تمہارے مموں کو کیا ممے ہیں تمہارے میں ہنس دی پھر ہم نے کام کیا اور جاتے وقت میں نے برا پھن لی پھر میرا معمول بن گیا کہ میں کیبن میں بغیر برا کام کرتی پھر ایک دن ہفتے کا دن تھا لنچ کے بعد سر بولے سونیا ایک کام بولوں تم کرو گی میں بولی ہاں سر کیوں نہیں تو انہوں نے بولا مجھے ایک چیز دیکھنی ہے کیا تم دکھاؤگی میں بولی کیا یکھنا چاہتے ہیں سر تو وہ بولے تمہاری خوبصورت اور نازک چوت کو دیکھنا چاہوں گا کیا تم دیکھا سکتی ہو میں بھی یہ چاہتی تھی لیکن میں بولی سر وہ صرف میرے شوہر نے دیکھی ہے میں سوچوں گی شام تک لیکن دیر سے جائیں گے وہ بولے ٹھیک ہے ہم پھر سے کام میں لگ گۓمیں دو تین بار انکا لنڈ دیکھنے گئی پھر .شاھد نذیرپانچ بجے ایک میٹنگ میں گۓ میں نے گھر ساس کو فون کیا کہ آج میں ایک سھیلی کی شادی میں جاؤں گی اور رات کو نہیں آؤں گی چھہ بجے کے قریب .شاھد نذیر آۓ آفس کے سب ورکر چلے گۓ تھے فراز نے چپراسی کو بھی میرے کہنے پر چھٹی دی پھر کیبن آۓ مجھ سے پوچھا کیا سوچا میں نے بولا سر میرے جسم کو شوہر کے سوا کسی نے نہیں دیکھا لیکن آپ میرے دوست ہو آپ کو انکارنہیں لیکن مجھے کیا ملے گا وہ بولے جو تم چاہو میں بولی دکھانے کے بعد بتاؤں گی پھر میں نے انکو انکی کرسی پر بیٹھنے کا بولا وہ جاکر بیٹھ گۓاور میں نے اپنی قمیض اتار دی پھر شلوار کا لاسٹک نیچے کردیا اور پینٹی بھی اتار دی اور جاکر ان کی ٹیبل پر بیٹھ گئی وہ میری چوت کودیکھہ کر سمجھو سکتے میں آگیا اور بولا سونی تم واقعی شادی شدہ ہو میں بولی ہاں سر وہ بولے اس کو دیکھ کر تو لگتا ہے کہ تم کنواری ہو میں نے بولا سر آٹھہ مہینوں سے شوہر سے نہیں ملی تو اس نے بولا کیا چھونے کی اجازت ہے میں بولی ہاں سر چوم بھی سکتے ہو لیکن ایک بار اسنے میری رضا مندی دیکھی تو میری چوت کے دانے کو ہلکا سا مثلا میری چوت ایک دم گیلی ہوئی اور منہ سے نکلا ہوئی پھر اس نے میری چوت پر اپنی زبان لگائی میں مدہوش تھی اس نے پھر بولا میں یس سے زیادہ کرسکتا ہوں میں بولی نہیں پھر وہ بولا میں نے کبھی کسی سے زیادتی نہیں کی تم دے التجا ہے کہ میں تمہاری چوت گانڈ اور مموں کی فوٹو لینا چاہتا ہوں
میں بولی سر میں بدنام نہیں ہونا چاہتی تو وہ بولے میں تمہارے چہرے کو نہیں لاؤں گا تم خود دیکھ لینا میں بولی ٹھیک ہے پھر انہوں نے اپنا ڈیجٹل کیمرا نکالا اور میری ہر زاویے سے فوٹو کھنچے ٹیبل پر کرسی پر نیچے قالین پر کبھی اپنے لنڈ کو میرے بوبس پر رکھ کر پھر اسنے بولا سونی اب چلنا چاہیے میں نے کپڑے پہنے پھر ہم باہر نکلے گاڑی میں بیٹھے میں نے اس کو بولا سرمجھکو کافی پلاؤگے کیا وہ بولے کیوں نہیں پھر وہ بولے تم آفس سے باہر مجھے صرف .شاھد نذیر بولو کیوں کہ باہر ہم دوست ہیں میں بولی ٹھیک ہے
پھر ہم کافی پینے روانہ ہوۓ راستے میں .شاھد نذیربولا تم بہت خوبصورت ہو رئیلی تمہارا جسم بہت لاجواب ہے میں بولی شکریہ بولے لگتی ہی نہیں کہ تم شادی شدہ ہو ایک دم کنواری چوت کی مالکن ہو میں ہنس دی میں نے پوچھا آج کیسا فیل ہوا تم کو فراز جب میں بلکل ننگی تھی تمہارے سامنے تو وہ بولا جی چاہ رہا تھا کہ تم کو چود دوں میں بولی تو چودہ کیوں نہیں وہ بولا تم راضی نہیں تھی اور میں زیادتی کرکے اپنی ایک اچھی خوبصورت اور سیکسی دوست کو کھونا نہیں چاہتا.اس نے پوچھا تمہاری کیا فیلنگ تھی میں بولی بس اگر تم چود بھی دیتے تو میں کچھ نہیں کہتی تمکو کیا تم مجھ کو چودنا چاہتے ہو؟تو وہ بولا ہاں میں بولی میں ڈرتی ہوں اسنے پوچھا کس بات سے میں بولی تمہارے موٹے اور لمبے لنڈ سے جو مجھ کو زخمی نہ کردے تو اس نے قہقہہ لگایا اور بولا مر نہیں جاؤگی تم پھر میں نے پوچھا کہ کتنی عورتوں سے سیکس کیا ہے ابتک بولا چار سے پھر اسنے سب کے نام بتاۓ میں نے پوچھا فضیلہ بھابھی سے نہیں کیا؟ تو بولا نہیں وہ افروز سے سیٹ تھی اسکو ننگا تو دیکھا بہت بار لیکن اس نے چودنے نہیں دیا پھر ہم کافی شاپ گئے وہاں کافی پی پھر جب باہر نکلے تو اس نے گاڑی میں بیٹھ کر بولا کیا تم راضی ہو مجھ سے چدوانے کے لئے میں آرام سے کروں گا میں بولی کہاں چودو گے اس نے بولا آفس میں بولی اسکے سواکوئی جگہ ہے کیا بولا ہاں میرے دوست کا فلیٹ ہے میں بولی کوئی اور جگہ اس نے بولا کسی ہوٹل میں میں نے کہا یہ ٹھیک رہیگا اس نے بولا پھر کب کا موڈ ہے میں بولی آج ساری رات تو بولا گھر میں کیا بولو گی میں نے بولا وہاں میں پہلے ہی بتا چکی ہوں ایک دوست کی شادی کا بولے کب بولا میں بولی جب آپ میٹنگ میں تھے میں نے آج رات تمہارے ساتھ رہنے کا سوچ لیا تھا. تو بولے بہت تیز چیز ہو یار تم واقعی میری دوست ہو پھرمیں نے بولا .شاھد نذیر تم مجھے میرے گھر لے چلو میں وہاں ڈریس لوں گی تم رات نو بجے مجھ کو لینے آجانا وہ بولے ٹھیک ہے پھر وہ مجھے میرے گھر چھوڑنے لے گۓ گھر کے سامنے اس نے مجھے اتارا جب میں اتر رہی تھی تو اس نے میری گانڈ کو ہلکا سے دبایا میں نے ہنس کر کہا کیا کر رہے ہو تو وہ بولا آج تو میں مالک ہوں اس جسم کا میں نے کر کا دروازہ بند کیا اور گھر چلی گئی گھر میں ساس اور سسر تھے ساس نے مسکرا کر خوش آمدید کہا بولی بتا تم شادی میں نہیں گئی میں بولی اماں دفتر میں کام بہت تھا دیر ہوگئی اب میں میک اپ کرکے جاؤں گی تو سسر بلے ساس سے بیگم یہ ہماری بہو نہیں بلکہ بیٹا ہے تم بہو کے لئے چاۓ بناؤ جب تک میری بٹیا تیار ہوجای اسکی تھکن بھی اتر جاۓ میں نے اپنا گرین رنگ کا سوٹ نکالا پھر واشروم گئی اپنے کپڑے اتارے پھر اپنی چوت کے بال یو کریم سے صاف کئے پھر نہانے کے بعد میں نے پینٹی پہنی اور ایسے ہی نکل آئی کیونکہ میرے کمرے میں ساس کے سواہ کوئی نہیں آتا تھا اور مجھے کسی کا ڈر نہیں تھا میں میک اپ کرنے لگی تو ساس چاۓ لیکر آگئی اس نے مجھ کو اکثر ننگا دیکھا تھا جب میں آفس جانے کے لئے تیار ہوتی تو مجھے انسے کوئی ڈر بھی نہیں تھا پھر ساس آئی اور بولی بیٹا میک اپ میں کردوں میں بولی نہیں اماں میں کر لوں گی تو بولی نہیں بیٹا تم تھکی ہوئی ہو میں اپنی بیٹی کو ایسا تیار کروں گی کہ سب میں خوبصورت نظر آؤ گی پھر اس نے مجھے میک اپ کیا مجھے ایسا تیار کیا جیسے میں دلہن ہوں پھر میں نے چاۓ پی اور جسم پر باڈی سپرے کیا پھر کپڑے پہن لئے پھر اماں نے مجے جیولری پہننے کا بولا میں بولی اماں بس ٹھیک ہے ایسے ہی تو اماں بولی نہیں پہنو تم میں نے جیولری نکالی اور پہن لی میں دل میں سوچ رہی تھی کہ اماں بھی کتنی سیدھی سادی ہیں کہ اپنی بہو کو چدوانے کے لئے تیار کرہی ہیں پھر اماں چلی گئیں
میں نے.شاھد نذیرکو فون کیا اور بولا ہمارے فلیٹوں سے کچھ آگے گاڑی کھڑی کرو میں آتی ہوں .شاھد نذیرنے بولا میں مسڈ کال دوں گا تم آجانا پھر میں ابّو کے پاس چلی گئی انہوں نے دیکھ کر بولا میری بیٹی تو آج بہت خوبصورت لگ رہی ہے پھر نے کچھ باتیں کی دس منٹ کے بعد .شاھد نذیر کی مسڈ کال آئی تو میں نے ان سے اجازت لی اور کہا میری دوست کا بھائی لینے آگیا ہے ابو نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی کہ تم اپنے مقصد میں ہمیشہ کامیاب رہو اماں نے خدا حافظ بولا تو میں گھر سے نکل آئی فلیٹوں سے کچھ دور .شاھد نذیرمیرے انتظار میں تھا میں اسکی گاڑی میں بیٹھی تو ہم روانہ ہوے .شاھد نذیرنے مجھے کہا قیامت لگ رہی ہو کیا آج مارنے کا ارادہ ہے مجھ کو میں نے مسکراہ کر کہا کہیں مجھ کو نہ ماردو بولا دیکھتے ہیں پھر ہم نے ایک جگہ رکھہ کر کھانا کھایا سب لوگ مجھ کو گھور گھور کر دیکھتے.شاھد نذیر نے کہا یار تم سے سب انسپایر ہیں پھر میں بولی رات کہاں گزاریں گے تو فراز بولا میرے دل میں پھر ہم pc ہوٹل گۓ میں پہلی بار یہاں آئی تھی .شاھد نذیر نے کاونٹر سے چابی لی چونکہ ہمارے پاس کوئی سامان نہیں تھا اس لئے ہم اکیلے ہی روم میں چلے گۓ روم کیا تھا سمجھو ایک خوبصرت ھال تھا میں .شاھد نذیرسے پوچھا کہ یہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے کہ کراچی کے رہنے والے ہیں اور رات یہاں گزاریں گے تو وہ بولا جان یہ ہوٹل بنے ہی اس کام کے لئے ہیں پھر اس نے دو بئیر کا آرڈر دیا ہم باتیں کر رہے تھے ہمارے لئے بئیر آگئی پھر اس نے گلاس میں ڈالی اور بولا مل کر پیتے ہیں میں اپنے منہ میں ڈالوں گا اور تم پیو گی پھر تم ڈالو گی تو میں پیوں گااس دوران پینے والا دوسرے کے جسم کو بھی ہاتھ لگاۓ گا میں بولی ٹھیک ہے اس نے اپنی قمیض اتاری اور میرے گلے پر ایک موٹی پلاسٹک شیٹ ڈال دی پھر اس نے میرے منہ میں گلاس لگایا اور میں نے منہ میں ایک گھونٹ لیا تو اس نے میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ لگا لئے اوربئیرچوسنے لگا اور اس کا ہاتھ میری چھاتیوں پر رینگ رہا تھا یھاں تک کہ سب بئیر کو چوس لیا پھر اس نے گھونٹ بھرا اور میں نے ہونٹوں سے ہونٹ ملاۓ اور اسکے لنڈ پر ہاتھ رکھہ کر اسکو مسلنے لگی اور ساری بئیر چوس لی اس طرح تین بار کیا ہم نے میں نے ہر بار اسکے لنڈ کو ہاتھ لگایا کیونکہ میرے پاس یہی آپشن تھا لیکن اس نے میری چھاتیوں گانڈ اور چوت سے انصاف کیا پھر میں بیڈ پر لٹ گئی تو .شاھد نذیر آیا میرے اوپر اور میرے سے پوچھا کیا میں تم کو آج رات ہر طرح سے کھل کر چود سکتا ہوں میں بولی نہیں میں یہاں تمھاری بہن بننے آئی ہوں تو اس نے میری جیولری اتار دی میرے بوبز پر ہاتھ رکھا اور دبانے لگے اور میری گردن پر چومنے لگے میں نی اپنی بانہوں میں بھر لیا اسکو پھر اس نے میری قمیض کو اوپر کھینچنا شروع کیا میرے پیٹ کو چومنا شروع کیا اور آہستہ آھتہ میری قمیض اتارنے لگا اب میں برا میں تھی اس نے قمیض اتاردی تھی اور برا کے اوپر سے میرے مموں کو چاٹنے لگا میں بھی آٹھ مہینوں سے چدائی کی پیاسی تھی میری چوت گیلی ہورہی تھی پھر اس نے میرے مموں کو برا سے آزاد کیا میرے نپلوں کو خوب چوسنے لگا میں بھی اپنی تمام مستیوں میں تھی میرے منہ سے آہ اوہ آہ میری ی ی ی جاااں کی آوازیں نکل رہی تھیں میں بےقابو سی ہورہی تھی پھر اس نے میری شلوار میں ہاتھ ڈال دیا اور میری شلوار کو اتارنے لگے پھر مر پینٹی کے اوپر سے میری چوت کو رگڑنے لگے میری چوت پانی پانی ہوگئی ہی اور پینٹی گیلی تھی تو اس نے اس پر زبان پھیری اور بولا جان کیا مزیدار پانی ہے تیری چوت کا پھر اس نے میری برا اتاردی میری ٹانگیں کھول کر بولا تم کنواری ہو کیوں کہ تمہاری چوت کے ہونٹ اندر کی طرف ہیں اور صرف دانہ نظر آرہا ہے اسنے میری چوت کے دانے کو مسلنا شروع کیا میری سسکاریاں بڑھنے لگی پھر اسنے اپنے منہ کو میری چوت سے لگا دیا اور بہت مزے سے چاٹنےلگا اور کبھی میرے دانے کو چوستا چھہ سات منٹ چاٹنے کے بعد میرے جسم نے اکرنا شروع کیا میں چھوٹنے والی تھی میں بولی جاااں آاہ آہ میں فارغ ہورہی ہوں اور تیز چوسو آہ آہ آہ اف ہوئی آآآآہ میں فارغ ہوئی تو اسنے میری ساری چوت سے پانی کو چاٹ لیا پھر وہ میرے قریب آکر لیٹ گیا اور میرے ہونٹوں کو کس کرنے لگا اس کے ہونٹوں پر میرا پانی لگا ہوا تھا جو میں نے اسکے ہونٹوں سے چوس لی پھر وہ بولا سونی تم بھی کچھ کرو میں اٹھی اور باتھ روم گئی پیشاب کیا اور چوت کو دھویا پھر سے آگئی میں نے اسکے بالوں سے بھرے سینے کو چوما اور چومتے چومتے نیچے آنے لگی پھر میں نے اسکی شلوار کا ناڑا اپنے منہ میں لیا اور کھینچنے لگی اور اسکی شلوار کو اتار دیا اسکا آٹھہ انچ سے بڑااور تین انچ موٹا لنڈ نکل آیا میں نے اس لنڈ کو منہ میں لیا اور چوسنے لگی اس کے منہ سے آواز نکلنے لگی وہ سونی تم اچھی ہو پیاری ہو تم کو میرا کتنا خیال ہے میں نے اپنی طاقت سے اسکو لالی پاپ کی طرح چوسا پھر وہ بولا سونی تم چدنے کے لئے تیار ہو میں بولی ہاں جان لیکن مجھے آہستہ سے چودنا میں ڈر رہی ہوں کہ مجھے بہت درد نا ہو وہ بولا بے فکر رہو پھر اسنے مجھے اٹھایا اورہونٹوں پر کسنگ کرنے لگا اسکا سانپ جیسا لنڈ میری چوت کو ٹچ ہورہا تھا پھر ان نے مجھ کو لٹایا اور اپنے لنڈ پر کنڈم چڑانے لگا میں بولی جان ایسے ہی چودو پھر وہ میرے اوپر آگیا اور میری ٹانگیں کھول دیں اور میری چوت پر اپنا ٹوپہ رکھا اور آرام سے اندر کرنے لگا پھر اسکا لنڈ کچھ اندر گیا مجھے تکلیف ہورہی تھی اسکا لنڈ مشکل سے اندر جارہا تھا تو ایک دم اس نے زور سے سارا لنڈ چوت میں داخل کیا میری چیخ نکل گئی وئی ماں مر گئی میں میری آنکھوں میں آنسو آگۓ اس نے میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ملاۓ اور ہاتھ سے میری چھاتیوں کو سہلانے لگا کچھ دیر بعد مجھ کو بھی مزہ آنے لگا پھر وہ بولا سونی جان اب تو درد نہیں ہورہا میں بولی نہیں جان من اب تو مزہ آرہا ہے تھوڑا تیز چودو تو اس نے اپنی سپیڈ تیز کرلی میرے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگی میں سمجھو ہواؤں میں تھی اسکا لنڈ بہت تیزی سے مجھ کو چود رہا تھا
ہم دونوں پسینے میں بھیگ چکے تھے اور پچک پچک کی آوازوں سے کمرہ گونج رہا تھا میں آہ چودو اور زور سے چودو میری چوت کی پیاس بھجا دو کہہ رہی تھی وہ خاموشی سے میری چوت کا مزہ اٹھا رہا تھاوہ میری چھاتیوں کو خوب دبا رہا تھا پھر وہ بولا سونی جب تم نے آفس میں مجھے چوت دکی تو ہلکے بال تھے اب صاف ہو میں بولی جان میں تم کو اچھا تحفہ دینا چاہتی تھی وہ بولا تم واقعی اچھی دوست ہو جان اب تو میرا جسم پھر سے اکڑنے لگا میں بولی جان میں چھوٹنے والی ہوں وہ بولے روکو ساتھ چھوٹتے ہیں پھر وہ اور تیز ہوۓ اور میں اور وہ ایک ساتھ فارغ ہوتے اسکی گرم منی نے اندر سے میری آگ کو بجھا دیا پھر اسکا لنڈ سکڑنے لگا تو اسنے لنڈ نکال دیا اور میرے قریب لیٹ گیا میں نے جب چوت کی طرف دیکھا تو اس پر خون لگا تھا پھر کچھ دیر بعد ہم نے پیشاب کیا اور.شاھد نذیر نے کچھ خانے کا آرڈر دیا میں نے کپڑے پہن لئے پھر کھانا آیا ہم نے پھر سے کھایا پھر .شاھد نذیرنے کہا سونی کیا ہم ہمیشہ ایسے دوست رہیں گے میں بولی ہاں اس کے بعد ہمارا پھر سے سیکس راؤنڈ شروع ہوا اور اس نے میرے کپڑے اتارے وہ بولا سونی اب میں گانڈ مروں گا میں بولی میں مر جاؤں گی وہ بولا پلیز جان میں کریم لگا کر کروں گا میں دوستی میں مان گئی اس نے اپنی جیب سے کریم نکالی اور میری گانڈ پر لگی پہلی ایک انگلی ڈالی اور آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا پھر اس نے مجھ کو گھوڑی بنایا اور اپنے لنڈ کو میری گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور میری کنواری گانڈ میں داخل کردیا میری گانڈ میں درد کی ایک لہر سے اٹھی اور میں بے چین سی ہوئی لیکن وہ نہیں رکا اور تیز تیز جھٹکے مار رہا تھا اسکا ایک ہاتھ میری چوت کو سہلا رہا تھا جس سے مجھے مزہ آرہا تھا پھر مجھے گانڈ میں بھی مزہ آنے لگا
پھر اس نے مجھے لٹا دیا اور میرے ہاتوں کے بیچ میری ٹانگوں کو پھنسا کر گدی کے پیچھے پکڑنے کا کہا جب میں نے کیا تو میری گانڈ اور چوت اسکے سامنے کھل سے گۓاس نے پھر سے میری گانڈ میں لنڈ ڈالا اور زور زور سے میری گانڈ کو چودتا رہا اور کبھی کبھی تھپڑ میری گانڈ پر مارتا پھر وہ میری گانڈ میں ہی فارغ ہوا اپنی منی سے میری گانڈ بھر دی پھر اسکا لنڈ چھوٹا ہوتا گیا جب میں نے گانڈ کے سوراخ کو ہاتھ لگایا تو گانڈ پوری کھل چکی تھی میں نے آئنے میں دیکھا تو کافی گول اور بڑا ہول تھا وہ بولا کیا ہوا میں بولی جان تم نے تو پھاڑ دی ہے میری گانڈ تو وہ ہنسنے لگا اور.شاھد بولا سونی تم گانڈو بھی بن گئی ہو.
ہم بہت تھک چکے تھے اور ہم دونو ننگے ہی سوگنے صبح ہم دیر سے اٹھے میں نہانے گئی تو اس نے ناشتہ منگایا ناشتے کے بعد ہم ہوٹل سے نکلے اس نی مجھے 3 دیں کی چھٹی دی اور مجھے گھر ڈراپ کیا اس کے بعد ہم کو جب بھی موقع ملتا ہم سیکس کرتے
ختم شد