خاوند نے منسٹر سے چودایا

 دن گزر رہے تھے ھفتے مہینوں اور سالوں میں بدلنے لگے۔ خاوند اکثر اوقات آفس سے لیٹ آتا تھا کام کی ذمہ داری کیوجہ سے۔ اس دن بہت تھکا تھکا لگ رہا تھا ۔ میں پوچھا کیا بات ھے آج کافی تھکے لگ رہے ھو۔ کہنے لگا کہ رانی ڈیپوٹیش کی ایک سیٹ ھے قطر کے لیے۔ اسکےلیے ایپلائ کی ھے دعا کرے کہ قطر کا یہ کام ھوجاے گا۔ اور پوزیشن بھی بہت اچھی ھے۔ میں کہا اللہ خیر کریگا ۔ پریشان نہ ھو۔ اسکو میں چاء پلائی

اور تسلی دی۔ دوسرے دن 1 بجے خاوند نے فون کیا کہ تیار ھو جاو منسٹر سے ملنے اسکے آفس جائیں گے۔ اس دن میں صبح سے گھر کے صفائ ستھرائی میں مصروف تھی اسلیے کہ کام والی خالا ایک ھفتے سے نہیں ارہی تھی۔ اس دن میرا حال برا تھا۔ بہرحال خاوند کا حکم تھا۔ خاوند نے کہا ڈرائیور لینے ارہا ھے

۔ میں نے پوچھا کونسا ڈریس پہننا ھے کہا جینز اور شرٹ پہنو۔ میں نےکہا ٹھیک ھے۔ باقی گھر کا کام اسی طرح چھوڑ دیا۔ واشروم گی نہائی اور چینز اور پہن کر اچھی پرفیوم لگائ ھلکا میک اپ کیا۔ اور ریڈ لیپ سٹک لگائ۔ اتنے دروازے پر بیل ھوئ۔ پوچھا کون۔۔۔۔کہا آفس سے سر نے بھیجا ھے آپ کو لینے کے لئیے

۔۔۔میں نے بس آپ گاڑی میں بیٹھو میں آتی ھوں۔ خاوند نے کال کی کہ ڈرائیور پہنچا۔۔میں نے کہا جی ابھی ایا۔ کہا ٹھیک ھے۔ پوچھا کیا پہنا ھے۔ میں کہا چینز اور شرٹ۔۔۔کہا ٹھیک ھے ڈرائیور کیاستھ ارہی ھو تو گلے میں ھلکا دوپٹہ لو۔ میں نے کہا ٹھیک ھے۔پھر جب منسٹر کے آفس میں جائینگے تو پھر دوپٹہ پرس میں رکھنا۔ میں نے کہا جی ٹھیک ھے۔

میں پونے تین بجے خاوند کے آفس پہنچی۔ ڈرائیور نے کہا میم آپ گاڑی میں بیٹھی رہو۔ سر کو بلاتا ھوں۔ تھوڑی دیر خاوند بھی اگیا اور میرے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ ھم منسٹر کے آفس پہنچے۔ گاڑی سے اتر کر میں دوپٹہ فورا اتارا اور پرس میں رکھا۔ خاوند کیساتھ منسٹر کے آفس میں گیے۔ ملاقات کا وقت مقرر تھا ۔ پی اے نے کہا آپ اندر تشریف لے جائیں۔ جب ھم آندر گیے

تو خاوند کا باس پہلے سے بیٹھا تھا۔ جب ایک اور کپل جو کہ میرے خاوند کے آفس میں تھے بیٹھے تھے وہ بھی دونوں میاں بیوی تھے۔ اس لڑکی کا خاوند بھی میرے خاوند کیساتھ آفس میں جونیئر پوزیشن پر تھا۔ اسکی بیوی نے بھی کچھ زیادہ تیاری کی تھی۔ بلکل ھلکے کپڑے پہنے تھے۔ بہرحال حال تھوڑیدیر بعد وہ دونوں آٹھ کر چلے گئے۔ میں میرا خاوند اور اسکا باس منسٹر کے دفتر میں تھے۔

منسٹر صیب نے انٹرکام پر پی اے کو بتایا۔۔۔کسی کو اندر نہیں آنے دینا۔ منسٹر نے کہا "سر یہ ھمارے آفس کے تجربے کار اتاشی ھے اور امور خارجہ کا ماہر ھے۔ اور بہت محنتی بندہ ھے۔ اسکے بارے میں میں نے آپکے ساتھ ذکر کیاتھا۔ اس وقت یہ سفیر بندہ ھے" اور اسکی بیگم۔۔۔ماشاءاللہ بہت اچھی اور خوبصورت ھے۔ منسٹر صاحب نے بھی تعریف کی

۔ پھر چاہے منگوائی گئی۔ منسٹر صاحب نے میرا نام پوچھا۔ خاوند نے کہا یاسمین نام ھے لیکن پیار سے سب رانی بولتے ھے۔ منسٹر صاحب نے ھنس کر پوچھا۔۔۔کس کی رانی؟ اسکے باس نے فورآ بولا۔سر آپکی بھی رانی ھے۔ منسٹر صاحب نے پوچھا رانی خود کیا کہتی ھے۔ میرے خاوند نے کہا سر یہ کچھ نہی کہے گی۔

منسٹر صاحب نے پوچھا کیا مطلب؟؟؟؟ خاوند نے مجھے کہا سر کو خود بتاو۔ میں نے خود کہا سر آپکی بھی رانی ھوں۔۔منسٹر صاحب نے ھنس کر پوچھا۔۔۔یہ کب رانی بنوگی۔ باس نے کہا جب آپ حکم دے۔ تھوڑی دیر بیٹھے رہے اور پھر منسٹر صاحب نے کہا لنچ کرنے کلب جائینگے۔ میرے خاوند نے کہا ٹھیک ھے۔ اس وقت ساڑھے چار بج رہے تھے۔ باس نے کہا آپ دونوں میاں بیوی اپنی گاڑی میں جاو اور ھم دونوں اکٹھے ارے ھے۔منسٹر صاحب نے کلب فون کیا کہ ایگزیکٹو روم ھے۔ شاہد وہاں سے ہاں کا جواب تو منسٹر صاحب نے کہا کہ ایک ایگزیکٹو روم بک کرو میرے نام سے۔

یوں ھم سب کلب چلے گئے۔میں سمجھ گئی کہ آپ چودائ ھوگی
پہلے ھم کلب پہنچے تو معلوم کیا کہ منسٹر صاحب نے کونسا روم بک کیا ھے ریسیپشن والی خاتون نے روم نمبر 4 بتایا اور خود ساتھ چلی آئی۔ پہلے ھم روم میں پہنچے تو خاوند نے کہا مجھے کس کیا کہا رانی منسٹر صاحب کو خوب خوش کرنا۔ بہت گرم بندہ ھے۔ میں ھنسی اور کہا فکر نہ کرنا بعد میں پوچھ لینا۔ کوئی 10 منٹ بعد منسٹر صاحب اور بس اگیے۔ باس نے کولڈ ڈرنگ کی آرڈر دیا۔ تھوڑی دیر گپ شپ لگی پھر کولڈ ڈرنگ اگیے پھر باس اور میرا خاوند آٹھ گیے اور کہا اچھا آپ لوگ ریلکس ھوجاو ھم کھانے کا کہہ کر آتے ھے۔ اور وہ دونوں باہر چلے گئے۔ روم میں اور منسٹر صاحب رہ گئے
میں کرسی پر بیٹھی تھی منسٹر صاحب نے صاحب نے کہا اجاو میرے قریب ۔۔میں اٹھی اسکے بیٹھ گی۔ مجھ سے پوچھا کہ کوئی زور زبردستی پر تو نہیں آئی میرے پاس۔۔۔میں پوچھا کیا مطلب۔۔۔۔کہنا لگا کہیں ایس تو نہی کہ آپکے خاوند یا اسکے باس نے اپکو مجبور کیا ھو۔ میں نے نہی سر ایسی کوئی بات نہیں۔اسمیں میری رضا شامل ھے۔ کہنے لگاGood, great۔ پھر مجھے لیپ کسنگ شروع کی۔ اور کہنے لگا کہ کیا حسین اور خوبصورت ھو۔ بہت خوبصورت جسم ھے بوب بھی بڑے بڑے ھے۔میرے مموں پر ھاتھ پھیرنے لگا۔ پھر شرٹ کے اندر ھاتھ ڈالا اور مموں کو دبانے لگا۔ میں شرٹ کے بٹن کھول دیے۔ اب شرٹ کھلا صرف برا اندر تھا برا پر ھاتھ پھیرنے لگا اور پوچھا سایز کیا ھے میں نے کہا 38۔ کہنے گا کیا سکسی اور کلاس سایز ھے۔ پھرپوچھا اس پر کوئی لوشن یا کریم لگاتی ھو کہ اتنے بڑے اور ٹایٹ ھے۔ میں نے نہی سر شروع سے ایسے ھی ھے۔ پھر مجھ سے کہا ایک بات بتاؤں ناراض تو نہیں ھوگی۔ میں نے نہی سر آپ کہیں۔ کہنے لگا کہ زیادہ لوگوں کے ساتھ سکس نہ کرنا ۔ ورنہ آپ کا حسن اور خوبصورتی ختم ھوجاےگی۔ یہ بوب بھی پھر لوز ھوجائنگے اور لٹک جائینگے۔ میں نے کہا ٹھیک ھے سر۔۔۔میں نے ھنس کہ پوچھا کہ آپ کیساتھ بھی۔۔۔۔۔۔۔کہنے لگا پگلی آج تو مجھے خوش کرو۔ میں نے سر میں حاضر ھوں۔ پھر میرا شرٹ اتارا اور برا خود کھولا اور مموں کو دونوں ھاتوں سے چوسنے لگا۔ آج ایک بندہ ملا کہ بہت پیار اور طریقے سے مموں کو اور نیپل کو مزے لے لے کر سکنگ کر رہا تھا مجھے بے انتہا مزا ارہا تھا۔ اور ساتھ ساتھ میں اسکو کو دیکھ دیکھ کر مسکرائ اور کہنے لگائ اف بہت مزا اریا ھے۔ کہنے لگا بس آج مزے لو۔۔۔ممے چوستے چوستے میں فارغ ھونے لگی۔ منسٹر صاحب سمجھ گیا مجھ سے پوچھا کیا ھوا رانی۔۔۔۔میں نے کہا میں فارغ ھوئ۔۔کہنا لگا اتنی گرم۔۔۔پھر میں نے اسکا پینٹ اتاری شرٹ خود اسنے اتارا تھا۔ پھر اس نے میرا بھی پینٹ اتاری اور نیکر بھی۔اب ھم دونوں ننگے تھے۔ اس نے پوچھا لن چوستی ھو میں نے کہا ہاں جی سر۔۔۔لن اسکا بہت موٹا تھا لیکن لن کا ٹوپہ پتلا تھا اور لمبائ میں برابر تھا۔ میں لن چوسنے لگی اگرچہ لن پہلے سے ٹایٹ ھوا تھا۔ اور آہستہ پانی نکل رہا تھا۔ میں چوسنے لگی ۔ تو تھوڑی دیر بعد کہا ذرا صبر کرو۔ بیڈ سے اٹھا صوفے پر ایا۔ وہ بیٹھ گیا اور کہا کھڑی رہو۔۔میں اسکے بلکل قریب کھڑی تھی وہ میرا چوت سک کررہا تھا اور میرے گانڈ پر ھاتھ پھر رہا تھا۔ پھر مجھے کہا گانڈ میری طرف کرو۔ پھر میرا گانڈ کو چاٹنے لگا۔ 10 منٹ تک یہی ھورھا تھا جسکا مجھے بے انتہا مزا ارہا تھا۔ پھر مجھے کہا او لن پر بیٹھو۔ میں نے کہا ٹھیک ھے اسکا لن ٹایٹ اور سیدھا تھا۔ میں نے گانڈ اسکے طرف کی۔ تو اس نے کہا کہ چوت میں ڈالو۔ میں نے چوت برابر کیا اور لن پر بیٹھ گی۔ منسٹر نے کہا آرام سے کہ چوت کو درد نہ ھو۔ میں بیٹھ کر اوپر نیچے ھونے لگی۔ پھر کہا صبر کرو اٹھو۔ اور وہ بیڈ پر اگیا۔ مجھے گھوڑی بنایا۔ اور لن ڈالنے لگا میں پھر فارغ ھونے لگی۔ منسٹر نے پوچھا پھر فارغ ھوئ ھو
میرے فارغ ھوتے ہی منسٹر صاحب نے بھی جھٹکے تیز کردی۔ آف بے انتہا مزا ارہا تھا وہ فل اندر تک کر رہا تھا۔ پھر جو وہ فارغ ھوا وہ بھی ایک یادگار وقت تھا۔ اتنا پانی نکلا کہ میں بیان نہی کر سکتی۔ پورا بدن گرم ھوا۔ بہت مزا ایا۔ اندر ڈالنے سے پہلے پوچھا کنڈوم لوں یا ایسے ھی کروں ۔ میں نے کہا بغیر کنڈوم کے چودو۔ کہنے لگا کہیں پریگنینٹ نہ ھو جاو۔ میں نے ھنس کر کہا کوی بات نہی منسٹر صاحب کا بچہ ھوگا۔۔۔۔وہ بھی ھنسا۔۔۔پھر وہ اٹھا واشروم گیا اپنے اپکو صاف کیا اور پھر مجھے کہا اب تم جاو اپنے اپکو صاف کرو۔ جب میں باہر نکلی تو اس نے کپڑے پہنے تھے تیار ھوا تھا۔ میں نے پوچھا سر کیا دوبارہ نہی چودائ کرنی۔ کہنے لگا پھر دوسرے ٹایم فل رات کے لیے۔ اب وہ لوگ بھی باہر انتظار کر رہے ھے۔ ٹایم کو دیکھا تو 2 گھنٹے گزرے اور پتہ بھی نہی چلا۔ پھر باس اور خاوند کو فون وہ اگیے پھر ھم نے کھانا کھایا اور ھم گھر اگیے۔ خاوند نے پوچھا کیسا رہا۔ میں نے ساری تفصیل سنادی۔
See translation
All reactions:
52

Post a Comment

Previous Post Next Post