کرشمہ آنٹی کی حسرتیں

  پوچھا، "کبھی کسی لڑکی کو

چھوا ہے؟" میں نے "نہ" میں سر ہالیا۔ "سکول میں بھی
نہیں؟" "نہیں۔۔۔ وہ ۔۔۔ ہمارے سکول میں صرف لڑکے ہوتے
ہیں۔ کبھی اپنی مس یا ٹیچر کو دیکھ کر بھی دل نہیں
چاہا؟" "نہیں وہ، میڈم تو ہماری ٹیچر ہیں۔ " اچھی خالہ
مجھ سے باتیں کرتی جارہی تھی اور ساتھ ساتھ میرے لن
کا مساج بھی۔ اب میرا لن اتنا سخت ہوگیا تھا کہ میری
رانوں کی نسیں بھی کھنچ رہی تھی۔




کرشمہ آنٹی مجھے
کمرے کے اندر لے آئی اور اک کھری چارپائی پر چادر ڈال کر
مجھے لٹا دیا۔ سائیڈ میں تکیہ رکھا اور میرے طرف میں اس
پرایسے ٹیک لگایا کہ ان کی چھاتیوں کے لمبے اور تنے ہوئے
نپل میرے چہرے کے اوپر تھے۔ اپنی ٹانگ اٹھا کر میری ران
پر رگڑنے لگی اور اپنا نپل میرے چہرے پر۔ پھر کرشمہ آنٹی
نے نپل میرے منہ میں دیا۔اور کہا، "خلیل میاں سے تو ہو
نہیں پاتا تھا۔ تم تو چوس لو" میں نے کرشمہ آنٹی کے نپل
کے اوپر ہونٹ بند کردئے اور چوسنے لگا۔ کرشمہ آنٹی اب
کسی ناگن کی طرح بے چین ہورہی تھی۔ مجھے بھی اب مزا
آرہا تھا۔ جوش میں آ کر میں نے ان کے نپل کو دانتوں میں
کاٹا تو وہ ششششششششششششش کی آواز نکال کر تڑپ
اٹھی۔ میں نے ڈر کے مارے جلدی سے منہ ہٹایاتو کرشمہ آنٹی
نے پیار سے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ پھر میرے ہونٹوں کو
اپنے ہونٹوں سے چوما، پھر میرے نچلے ہونٹ کو چوسنے
لگی۔ میں نے بے اختیار ان کی ٹانگ کو اپنی ٹانگوں میں
پکڑلیا اور ان سے چمٹ گیا۔ لن اب میرے بس سے باہر ہو رہا
تھا۔ میں نے کرشمہ آنٹی کے پیٹ پر ہی اپنا لن رگڑنا شروع
کیا۔ کرشمہ آنٹی نے میرا ازار بند کھوال۔ میرے منہ میں پھر
سے اپنا نپل ڈاال جسے میں نے اب زور سے کاٹا۔ کرشمہ آنٹی
اب پوری گرم ہو چکی تھی اور کراہنے لگی تھی۔ ان کی
سانسیں بے حال، منہ سے آہ آہ کی آوازیں اور چوت سے لیس
دار پانی نکل رہے تھے۔ کرشمہ آنٹی نے السٹک لگائی تھی اس
لئے انہیں شلوار اتارتے دیر نہیں لگی اور وہ میرے لن کے اوپر
بیٹھ گئی۔ اب وہ بڑبڑا بھی رہی تھی۔ "خلیل کمینہ دبئ جا
کے بیٹھے گا تو میری چوت کی آگ کون بجائے گا۔" پھر خود
ہی میرے لن کو اپنی چوت میں ایڈجسٹ کرکے آرام سے لیکن
مستقل زور سے ڈالنے لگی۔ کرشمہ آنٹی کی چوت کی گرمی
الجواب تھی۔ اک پل کو مجھے لگا میرا پانی ابھی چوٹ
جائے گا۔ ان سے اب اور برداشت نہیں ہو پا رہا تھا۔ میرے
سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اور میرے اطراف میں
گھٹنے گاڑ کر اب وہ خود ہی میرے لن پر اٹھک بیٹھک کر
رہی تھی۔ میں اپنے لن کے ذریعے ان کی چوت کے ہر کونے کو
محسوس کر رہا تھا۔ وہ جھٹکے مار کر تھک گئی توسانس
لینے کو رکی۔ پھر اپنی انگلیوں کو میرے ہونٹوں پر رکھا اور
ہونٹوں کے قریب کر کے چاٹنے لگی۔ میں نے محسوس کیا کہ
کرشمہ آنٹی نے اپنی چوت کی نسیں ٹائٹ کر لیں۔ میرا لن
اور بھی تن گیا۔ میں نے ان کے کولہے پکڑ لئے اور اب خود ہی
گھسے مارنے لگا۔ ہر گھسے کے ساتھ کرشمہ آنٹی کے بڑے
بڑے سینوں کو اچھلتا دیکھتا تو گھسے بے اختیار تیز
ہوجاتے۔ کرشمہ آنٹی اب مجھے گالیاں دینے لگی۔ "چود۔ چود۔
خلیل نہیں آئے گا تو میں تم سے ہی چدواوں گی۔ مار نا۔
کیاہیجڑوں کی طرح ہل رہا ہے۔ چود دے۔ ااااااااااااااااااہ۔۔۔
خلیل کی بیوی کو اب تو چودے گا۔
ہششششششششششششششش! اااااااااااااااہ۔۔۔ چود سالے،
چود!" انکی گالیاں سن کر مجھے اور جوش آیا۔ اب کے اتنی
تیزی سے چدائی کرنے لگا کہ کرشمہ آنٹی کی چوت سے لیس
دار پانی کی چھینٹیں میرے لن کے اوپر لوور ابڈامن پر پڑنے
لگی۔ کرشمہ آنٹی کی آنکھوں کا کالک اب جیسے غائب ہو رہا
تھا۔ وہ کراہ رہی تھی اور جھوم رہی تھی۔ میرے پیروں کی
نسیں تک تن گئی تھیں۔ کرشمہ آنٹی کا بولنا بند تھا
جبکہ
میں تقریبا چیخنے لگا تھا۔ میں نے شدت جذبات میں گھسے
اور تیز کردئیے تو لن کرشمہ آنٹی کی بچہ دانی کو پھاڑنے
لگا۔ ان کی آنکھیں باہر کو نکل آئی۔ منہ کھال رہ گیا۔ جبکہ
میرے وجود سے آگ نکلنے لگی۔ میں نے آخری تیز جھٹکا مارا
اور اپنے لن سے اک طاقتور فوارہ کرشمہ آنٹی کی چوت کی
گہرائی میں چھوڑ دیا۔ میں نے اپنا لن ان کی بچہ دانی کے
اندر زور سے ڈال کر روکے رکھا۔ کرشمہ آنٹی کے اندر بھی اک
کرنٹ بھر گیا تھا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post