میرا تعلق گوجرانوالہ سے ھے لیکن جب میں پانچ سال کا تھا تو میرے والد صاحب انتقال کر گئے اور گھر کی زمہ داریاں بڑے بھائی پر آگئیں ۔ گھر کے حالات بھت اچھے تو تھے نہیں لہذا جلد ھی بھائی کام کے سلسلے میں فیصل آباد شفٹ ھو گئے۔

دو سال بعد بھائی نے ھم سب گھر والوں کو بھی فیصل آباد شفٹ کر لیا یوں ھم لوگ فیصل آباد کے ھو کر رہ گئے۔ اور کبھی کبھار اپنے عزیزو اقارب سے ملنے گوجرانوالہ کا رخ بھی کرتے اور اپنے5 مرلے کے آبائی گھر کا چکر بھی لگاتے تاکہ اس کی دیکھ بھال ھوتی رھے۔ میٹرک کرگے۔ کے بعد میں بلکل فری تھا تو سوچا کچھ دن گوجرانوالہ رہ لوں۔ چناچہ میں گوجرانوالہ آ گیا ۔فیصل آباد میں رھنے اور کو ایجوکیشن کی وجہ سے میرے اندر کافی اعتماد آگیا تھا جس کی وجہ سے لڑکے ھوں یا لڑکیاں کسی سے بات سے جھجکتا نھی تھا۔ گوجرانوالہ پہنچ کر میری روٹین یہ تھی کہ رات ساری کزنز کے ساتھ موویز دیکھتا رھتا تاش کھیلتا اور دن کو سوتا رھتا۔ ایک دن مجھے دن بارہ بجے آٹھایا اور بولیں نواب صاحب اُٹھیں اور جا کر علی کو، سکول سے لے آئیں۔ علی میرے 7 سال کے بھانجے کا نام ھے جو کہ کزن باجی کے گھر سے تھوڑی دور ایک پرائیویٹ سکول میں ٹو کلاس میں پڑھتا تھا۔میں نے کہا کیوں باجی آج کیا رکشے والے نے نھی آنا جو میری نیند خراب کر رھی ھیں۔ تو وہ بولی نھی رکشے والے کی بیٹی کی شادی ھے اور وہ ایک ھفتہ چھٹی کرے گا اور تب تک آپ نواب صاحب علی کو سکول سے لائیں گے جبکہ صبح اس کے پاپا اسے سکول چھوڑ دیا کریں گے۔ میں بادل نخواستہ اٹھا اور پیدل ھی سکول کی طرف چل پڑا۔ سکول زیادہ دور نھی تھی بمشکل سات آٹھ منٹ میں سکول پہنچ گیا۔ چھٹی ھونے میں ابھی دس منٹ تھے۔ میں سکول کے پاس ھی ایک شاپ پر بیٹھ گیا اور آتے جاتے لوگوں کو دیکھنے لگا۔ تبھی میری نظر دوکان سے تھوڑی دور ایک گلی کی نکڑ پر پڑی۔ جہاں پر ایک لڑکی کھڑی میری طرف دیکھ رھی تھی۔ میں نے ادھر اُدھر دیکھا اور کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ نا پا کر اسی لڑکی کو دیکھنا شروع کر دیا۔ وہ بھی نکڑ پر کھڑی ادھر اُدھر دیکھتی اور پھر میری طرف دیکھنے لگ جاتی۔ چند منٹ بعد میں نے ھاتھ ھلکا سا ھلا کر اسے اشارہ کیا تو وہ مسکرا کر گلی کے اندر چلی گئی۔ میرا، ارادہ بنا کہ اٹھ کر اس گلی کا، ایک چکر لگانا لیکن اسی وقت سکول کی گھنٹی نے میرا ارادہ ملتوی کروا دیا۔ میں سکول کے گیٹ پر چلا گیا اورچند منٹ بعد ھی علی سکول سے باھر آگیا۔ علی کو لے کر میں گھر کی طرف چلا تو وہ گلی راستے میں ھی آنی تھی۔ میں نے گلی کے سامنے رک کر گلی میں دیکھا تو وہ گلی آگے سے ٹی بن کر لیفٹ اور رائیٹ مڑ رھی تھی جبکہٹی کو سیدھا کراس کر کے دو گھر تھے آگے گلی بند تھی اس کا گھر بلکل سیدھا ٹکر والا تھا اور وہ اس ٹکر والے گھر کے گیٹ پر کھڑی تھی۔ اس نے جیسے ھی مجھے دیکھا مجھے ھاتھ کے اشارے سے بائی بائی کیا اور گھر کے اندر چلی گئی۔ میں بھی علی کو لے کر گھر آگیا ۔ علی کو باجی کے حوالے کر کے میں دوبارہ بستر ہر لیٹ گیا لیکن اب نیند کا کوئی ارادہ نھی تھا۔ میں اس لڑکی کے بارے میں سوچنے لگا۔ اسے چونکہ دور سے دیکھا تھا لہذا اس کا چہرہ اچھی طرح نا دیکھ سکا لیکن اس کا جسم بھرا بھرا تھا۔ قد تقریباً پانچ فٹ تھا۔ اب میرا، دل کیا کہ ایک چکر اور باھر کا لگاوں چناچہ ایک بار پھر باھر نکل کر اس کی گلی کی طرف جا رھا تھا۔ اس کی گلی کے سامنے رک کر دیکھا لیکن وہ وھاں نھی تھی اور گیٹ بھی بند تھا۔ میں وھاں سے واپس آگیا اور پی ٹی سی ایل سے کزن کو کال کر کہ کہا کہ میں جاگ گیا ھوں لہذا وہ اپنی بائیک لے کر آجائے تاکہ ھم آوارہ گردی پر نکل سکیں۔ یہ واقعہ 2014 کا ھے خیر کزن ولید جو میری پھپھوکا بیٹا تھا مجھے پک کرنے آ گیا۔ ھم تین کزن ھم عمر تھے جن کی بھت اچھی دوستی تھی باقی کزن چھوٹے تھے۔ ھم تینوں روزانہ رات کو VCR کرائے پر لاتے اور ھر قسم کی وہ فلمیں بھی دیکھتے۔ جن میں وہ فلمیں بھی ھوتی تھیں جن میں آواز نھی ھوتی تھیی۔
اگلے دن میں خود ھی علی کی چھٹی سے زرا پھلے گھر سے نکلا اور آج میں رستہ تبدیل کر کے اس ٹی والی گلی سے جا رھا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ آج پھر وھاں کھڑی ھوگی اور ھوا بھی ایسے ھی۔ اس نے مجھے دیکھا تو میری طرف آگئی اور مسکرا کر سلام کہا۔ میں نے بھی ادھر، ادھر دیکھ کر سلام کیا، اور اس کا نام پوچھا تو بولی میرا نام یاسمین ھے میں نے کہا میرا، نام سلمان ھے ۔ اتنی بات کر کے میں وھاں سے آگے نکل گیا کیونکہ ڈر تھا کوئی دیکھ نا لے۔ یاسمین ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ جسم بھرا بھرا اور ممے 34 سے 36 ھوں گے۔ تب مجھے سائیزوں کا اتنا پتہ نھی تھا،صرف اندازہ ھی تھا۔ میں گلی میں تھوڑا، آگے گیا تو مجھے ایک چھوٹی سی دکان نظر آئی جو، کسی بابے نے صرف بچوں والی گولیاں ٹافیاں رکھی ھوئی تھیں۔ میں جان بوجھ کر، دکان پر کھڑا ھو گیا تو وہ بھی میرے پیچھے چلتے چلتے دکان پر، آئی اور دکان کے اندر گھس کر بابے سے بولی۔ ابا توں گھر جا، تے روٹی کھا کے آ۔ میں دکان تے بھنی آں۔ تب مجھے سمجھ لگی کہ بابا جی اس کا باپ ھے اور بابا مجھے ذھنی طور پر بھی فٹ نھی لگا تھا۔ میں جان بوجھ کر کچھ بچوں کی چیزیں خریدنے لگ گیا۔ بابا اٹھ کر گھر کی طرف چلا گیا اب وہ دکان میں اکیلی تھی۔ دکان کے اندر جانے کا میں رسک لے نھی سکتا تھا کیونکہ بھری دوپہر تھی ۔ باھر کھڑے کھڑے اس سے بات کرنے لگا۔ میں نے کہا کیا تم ھر ایک سے ایسے ھی بات کرتی ھو جیسے مجھ سے کی تو وہ بولی نھی۔ میں نے آپ کو دو تین دفعہ دیکھا اور مجھے اچھے لگے ھو اس لیے آپ سے بات کی۔ مجھے وہ زیادہ پڑھی لکھی نھی لگی شائید سکول کا منہ بھی نھی دیکھا تھا۔ لیکن میں نے اس سے پوچھا نھی کیونکہ میرے لیے اتناھی کافی تھا کہ وہ ایک جوان لڑکی ھے ۔ خیر اس سے باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ وہ تین بھنیں ھیں اور دو بھائی۔ باپ دماغی طور پر ٹھیک نھی تھا۔ دونوں بھائی مزدوری کرتے ھیں۔ ماں باپ کے ساتھ دکان پر بیٹتھی ھے۔ ایک بھین اس سے بڑی 26 سال کی ھے اور دوسری اس سے چھوٹی 17 سال کی۔ اور اسکی عمر 23 سال ھے۔ اتنی دیر میں اسکی ماں آ گئی تو میں دکان سے ھٹ کر سکول کی طرف نکل گیا۔ علی کو واپس لے کر جاتے ھوئے بھی وہ اسی نکڑ پر کھڑی تھی۔ اس نے مجھے ھاتھ سے بائی بائی کیا اور گلی میں چلی گئی۔ اب میں سوچ رھا تھا کہ کسی طرح یاسمین کو ملوں کہیں اکیلے میں لیکن کوئی حل نھی مل رھا تھا۔ اور اس کے ممے مجھے چین نھی لینے دے رھے تھے۔ اگلے چار دن بھی اسی طرح ھلکی پھلکی بات ھو جاتی لیکن کوئی چانس نھی بن رھا تھا۔ پانچویں دن مجھے بھائی نے فیصل آباد بلوا لیا اور میرے خواب ادھورے رہ گئے۔فیصل آباد آکر یاسمین سے رابطہ بلکل ختم ھو گیا کیونکہ نا تو، اس کے گھر میں فون تھا، اور نہ وہ اتنے امیر تھے کہ موبائل فون رکھتے ۔ تبھی ایک دن بڑے بھائی نے مجھے اطلاع دی کہ انھوں نے گوجرانوالہ میں پرانا گھر بیچ کر کزن کے گھر کے پاس ایک کنال کا پلاٹ لیا ھے اور اب اس پر کنسڑکشن کروانی ھے۔ جس کے لیے گھر والے کچھ عرصہ گوجرانوالہ شفٹ ھونے کا سوچ رھے ھیں۔ پھر ایک دن امی اور بھابی کو لے کر بھائی گوجرانوالہ چلے گئے۔ بھائی کا، ارادہ تھا کہ وہ کزن سسٹر کے گھر کے نزدیک کوئی گھر کرائے پر لے لیں گے اور وھاں رہ کر ھم اپنا گھر بنوا لیں گے۔ میں فلحال فیصل آباد ھی رہ گیا کیونکہ یہاں بھی گھر کو خالی نھی چھوڑا جاسکتا تھا۔ پندرہ دن بعد بھائی نے مجھے سسٹر کے گھر سے کال کی اور کہا کہ ھم نے سسٹر کے گھر کے پاس ایک گھر کرائے پر لے لیا ھے اب تم گوجرانوالہ آ کر مستریوں سے کام کرواو اور میں فیصل آباد واپس آکر اپنی ڈیوٹی کروں گا۔ میں نے بھائی کو کہا کہ میں رات کو، فیصل آباد سے نکلوں گا تو صبح صبح گوجرانوالہ ھوں گا۔ آپ مجھے گھر کا، ایدڑیس سمجھا دیں تاکہ میں سسٹر کی بجائے سیدھا اپنے گھر پہنچوں۔ بھائی نے مجھے ایڈریس سمجھایا تو ایسا لگا جیسے تقدیر مجھ پر مہربان ھو رھی ھے کیونکہ جو ایڈریس بھائی نے بتایا تھا وہ یاسمین کے گھر کے ساتھ والا گھر تھا۔ ایک دم سے یاسمین پھر میرے خوابوں میں آگئی تھی میں شام کو نھانے کے لیے واش روم میں گیا اور یاسمین کے میں کا سوچ کر مٹھ ماری۔ پھر نھانے کے بعد تیار ھو کر اڈے کے لیے نکل پڑا۔ صبح پانچ بجے میں گوجرانوالہ یاسمین کے گھر کے ساتھ والے گیٹ پر کھڑا تھا
میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو بھائی نے دروازہ کھولا۔ میں گھر کا جائزہ لے رھا تھا۔ یہ گھر نا صرف یاسمین کے گھر سے جڑا ھوا تھا بلکہ گھر کے اندر دونوں گھروں کے درمیان ایک پانچ فٹ اونچی دیوار تھی جس سے پتہ چلتا تھا کہ یا تو دونوں گھروں کا ایک ھی مالک ھے یا رشتہ دار ھیں۔ دروازے سے اندر داخل ھوتے ھے دائیں طرف ایک بیٹھک اور بائیں طرف باتھ روم بنا ھوا تھا اس کے بعد کافی کھلا صحن تھا پھر دائیں طرف کچن اور سامنے ٹکر پر دو کمرے بنے ھوئے تھے۔ میرے آنے سے امی اور بھابی بھی اٹھ گئی تھیں۔ انھوں نے مجھے ناشتہ بنا کر دیا جس کے بعد میں بیٹھک میں جا کر سو گیا کیونکہ ساری رات جاگا ھوا تھا۔ دوپہر کو آنکھ کھلی تو اٹھ کر باتھ روم میں نہانے چلا گیا۔ نھا کر باھر نکلا ۔تو ایک نیا چہرہ نظر آیا جو کہ سامنے کمرے میں بیٹھ کر مشین پر کوئی کپڑا سی رھی تھی ۔ لڑکی خوبصورت تھی اور جسم بھی یاسمین کی طرح ھرا بھرا تھا۔ میں کمرے میں آیا تو اس نے مجھے سلام کیا میں جواب دے کر امی کے پاس چارپائی پر بیٹھ گیا۔ امی نے بتایا کہ بھائی فیصل آباد چلا گیا ھے۔ کل سے مستری مزدور آ جائیں گے اور تم وھیں پر کام کی نگرانی کرو گے۔ بھابی کچن میں کھانا بنا رھی تھی۔ مجھے تجسس تھا کہ یہ لڑکی کون ھے۔ اس لیے بھابی کے پاس چلا گیا اور پوچھا بھابی یہ کون ھے۔ بھابی نے میری طرف شک بھری نظروں سے دیکھا اور کہا خیر ھے ۔ میں نے کہا بھابی ویسے ھی پوچھ رھا ھوں ۔ بھابی نے یاسمین کے گھر کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ساتھ والا گھر مالک مکان کے بھائی کا ھے اُن کی بڑی بیٹی ھے نام کلثوم ھے اور میرے کپڑے سی رھی ھے۔ میں کچن سے نکلا اور دوبارہ امی کے پاس بیٹھ گیا اور کلثوم کو دیکھنے لگا۔ وہ بھی سمجھ گئی تھی کہ میں اسے دیکھ رھا، ھوں اس لیے بار بار مجھے دیکھتی اور پھر کپڑے سینے لگ جاتی۔ تھوڑی دیر بعد میں نے اسے اشارہ کیا، تو وہ مسکرانے لگی۔ لائین کلیئر دیکھ کر میں نے اسے آنکھ ماری تو اس نے بھی مجھے آنکھ مار دی۔ میرے دل میں تو شادیانے بج رھے تھے کیونکہ یاسمین پھلے ھی سیٹ تھی اور اب اسکی بڑی بھین بھی پورا، ریسپونس دے رھی تھی۔ بھابی نے مجھے کھانے کے لیے آواز دی تو میں دوسرے کمرے چلا گیا۔ دل میں سوچ رھا تھا کہ یہ دونوں بھنیں اتنی جلدی سیٹ ھو رھی ھیں خیر ھی ھو۔ کھانے کے درمیان ھی یاسمین اپنی بہن کو بلانے آ گئی اور مجھے دیکھ کر حیران ھوئی میں نے بھی موقع دیکھ کر اسے آنکھ ماری وہ مسکرا کر دوسرے کمرے میں کلثوم کے پاس بیٹھ گئی۔ میں بھی اسی کمرے میں آکر امی کے پاس بیٹھ گیا اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا لیکن دھیان میرا دونوں بہنوں کی طرف ھی تھا۔ کلثوم نے یاسمین کو ڈانٹ کر گھر بھیجا تو، وہ گیٹ سے جانے کی بجائے اندرونی دیوار کے پاس بجری پڑی تھی وھیں سے دیوار پھلانگ کر چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد امی کسی کام سے سسٹر کے گھر چلی گئی اور بھابی اپنے کمرے میں کپڑے پریس کر، رھی تھیں۔ میں نے موقع دیکھ کر کلثوم سے باتیں شروع کر دیں۔ وہ بھی پڑھی لکھی نھی تھی لیکن دونوں بہنیں بھت فاسٹ تھیں۔ شائید دونوں کو چدوانے کا شوق تھا ورنہ لڑکیاں اتنی جلدی فرینک نھی ھوتیں۔ خیر جو بھی تھا مجھے پکی پکائی دو دو چپڑی ھوئی مل رھی تھیں۔ چند منٹوں میں ھی کلثوم بلکل فرینک ھو گئی تھی بلکہ یہ کہنا پڑے گا کہ یاسمین سے بھی زیادہ کلثوم تیز تھی۔ تبھی بھابی کمرے میں آگئی شائد کپڑے پریس ھو گئے تھے ۔ بھابی میری بہت اچھی دوست بھی تھیں اور میں اپنے رومانس اکثر ان سے شئر کرتا رھتا تھا۔لیکن وہ مجھے ڈانٹتی اور سمجھاتی رھتی تھیں لیکن انھوں نے کھبی بھی بھائی سے میری کوئی شکائت نھی کی۔ مجھے کلثوم سے باتیں کرتا دیکھ کر انھوں نے مجھے گھور کر دیکھا لیکن میں بھی ڈھیٹ بن کر بیٹھا رھا۔ تھوڑی دیر میں کلثوم نے کپڑے سی لیے اور بھابی کو دیئےاور کہنے لگی بھابی آپ ایک دفعہ پہن کر چیک کر لیں۔ بھابی نے کپڑے پکڑے اور اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیا۔ موقعہ مناسب تھا میں نے آگے بڑھ کر کلثوم کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ جیسے پہلے ھی تیار تھی اس نے آگے بڑھ کر مجھے جھپی ڈال لی۔ میں نے اس کی ٹھوڑی کو، اوپر اٹھایا اور اپنے ھونٹ اس کے ھونٹوں پر رکھ دئیے۔ اس نے بلکل مزاحمت نھی کی بلکہ میرا ساتھ دے رھی۔ اب میں اس کو کس بھی کر رھا تھا اور میرے ھاتھ اس کے مموں کو دبا رھے تھے۔ چند منٹ بعد میں نے اسے پیچھے ہٹا دیا کیونکہ بھابی کسی بھی وقت آسکتی تھیں۔ کلثوم بولی رات کو بیٹھک میں سونا اور دروازہ کھلا رہنے دینا۔ میں پورے بارہ بجے آوں گی۔ میں انتظار کروں گا۔ یہ کہ کر میں جان بوجھ کر کمرے سے باھر آگیا کیونکہ میرے دل میں چور تھا، اور میں نہی چاہ رھا تھا کہ بھابی کو شک ھو جائے۔ میں بیٹھک میں آکر بیٹھ گیا اور ڈیک پر گانے لگا لیے۔
دوبارہ جب میں بیٹھک سے نکلا تو کلثوم اپنے گھر چلی گئی تھی اور بھابی کہیں جانے کی تیاری میں تھی۔ بھابی نے مجھے دیکھا، اور بولی چلو مجھے اماں کے گھر چھوڑ آو اور شام کو لے آنا۔ میں گلی میں جا کر رکشہ لے آیا اور بھابی کو اُن کے میکے چھوڑنے کے بعد بازار کی طرف چلا گیا۔ میرا دل تھا کہ مارکیٹ سے کنڈوم خرید لوں ۔ یہ سوچ کر ایک دوست کی دکان پر جا کر کنڈوم خریدے۔ اب میں نے موقع غنیمت جانا اور دوبارہ گھر کا، رخ کیا کیونکہ گھر خالی تھا تو شائد ایک بار پھر موقعہ مل جاتا۔ گھر پہنچ کر میں نے جان بوجھ کر، دروازہ زور سے کھولا تاکہ ھمسائیوں تک آواز جا سکے۔ اور یہ ہی ھوا تھوڑی دیر بعد یاسمین نے دیوار سے جھانکا تو میں صحن میں چارپائی پر لیٹا تھا۔ میں نے اسے اشارہ کیا تو وہ دیوارسے ھمارے صحن میں آ گئی۔ میں اٹھ کر اندر کمرے میں آگیا کیونکہ ڈر تھا کہ ھمسائیوں میں سے کوئی دیکھ نہ لے۔ اندر داخل ھو کر پہلے میں نے کلثوم کے بارے میں پوچھا کیونکہ اگر وہ آ گئی تو یاسمین چلی جائے گی بلکہ دونوں چلی جائیں گی۔ یاسمین نے بتایا کہ ککثوم اور امی کسی رشتےدار کے گھر فوتگی پر گئی ھوئی ھیں اور شام کو آئیں گی۔ گھر پر صرف ابا اور چھوٹی بہن رجو ھے۔میں نے اسے کھینچ کر گلے سے لگا لیا۔ اپنے ھونٹ اس کے ھونٹوں پر رکھ دئیےاور اس کی کمر پر ھاتھ پھیرنے لگا۔ وہ بھی پوری طرح ساتھ دے رھی تھی۔ یاسمین کاجسم کلثوم کے مقابلے میں زیادہ بھرا ھوا تھا اور اس کے ممے بھی کافی بڑے تھے شائد 36 سائز تھا۔ کمر پر ھاتھ پھیرتے ھوئے میرا ھاتھ اس کے ھپس پر لگا تو وہ بھی کافی بڑے تھے۔ یاسمین کی کسنگ بتا رھی تھی کہ وہ اس کام میں ایکسپرٹ ھے۔ میں نے ھاتھوں سی اس کے بُنڈ دبا کر اسکی چوت کو اپنے لن کے ساتھ جوڑا میرا شیر تو پہلے ھی تیار کھڑا تھا یاسمین نے بھی بلاتکلف اپنی چوت کو میرے لن پر رگڑنا شروع کر دیا۔ میں نے اسکی قمیض کو اوپر کیا اور اسکے ممے کھینچ کر برا، سے باھر نکالے۔ اس کے ممے تو جیسے پہلے ھی آزاد ھونے کے لیے بےچین تھے۔ اس کےپنک کلر کےنپل بھی بہت بڑے تھے۔ میں نے انھیں منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔ میری کوشش تھی کہ پورے منہ میں لے لوں لیکن ان کا سائز میرے منہ سے کہیں بڑا تھا۔ میں باری باری دونں مموں کو چوستا کبھی ان پر ھلکے ھلکے دانتوں سے کاٹتا تو وہ تڑپ جاتی۔ اب اس نے خود ہی میرے لن کو شلوار کے اور سے پکڑ کر اپنے پھدی پر رگڑنا شروع کر دیا اور میرے لن کا بھی بس نہی چل رھا تھا کہ اسکی شلوار پھاڑ کر اندر گھس جائے۔ میں نے اس کے مموں کو چھوڑ کر اسکی قمیض اور پھر برا بھی اتار دی۔ لیکن وہ ابھی تک میرے لن کو ھاتھ میں پکڑے شلوار کے اوپر سے مسل دھی تھی۔ میں نے اسکی بے چینی محسوس کرتے ھوئے شلوار کا ناڑا کھول کر شلوار نیچے کی اور اپنا لن اسکے ھاتھ میں پکڑا دیا۔ وہ اب اور مستی اور زور سے مسل رھی تھی۔ میں نے اسے پکڑ کربھابی کے بیڈ پر بیٹھا دیا اور لن اس کے پاس ھاتھ میں پھر سے پکڑا دیا۔ اس نے میرے لن کو غور سے دیکھا اور بڑے پیار سے مسلنے لگی۔ میں نے کیا یار اس کو تھوڑا پیار کرو بیچارا کتنے مہینوں سے تمھارے لیے تڑپتا ھے اور لیک ھوتا ھے۔ وہ میری بات سن کر مسکرائی اور بولی چل فیر اج ایدا، انتظار ختم کروائیے۔ اتنا کہ کر اس نے میر لن کی ٹوپی پر پیار کیا اور بولی یار ھے بڑا وڈا تے ملائم۔ میں نے کہا تے فیر انوں پیار کر کے ھور ملائم کر تا کہ اے تیری تلے لگی اگ نوں بجھا سکے۔ میری بات سن کر اس نے میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لے لیا اور چوسنے لگی ۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں نے شراب پی لی ھو ایسا نشہ کہ بیان نھی کر سکتا۔ میں نے اس کے سر کو پیچھے سے پکڑ کر دبایا تو میرا لن آدھے سے زیادہ اس کے منہ میں تھا۔ پھر وہ خود ھی پورا، منہ میں لے کر چوستی کبھی آگے پیچھے کرتی اور کھبی منہ کے اندر روک کر اس پر گولمول زبان پھیرتی۔ میرا لن پھٹنے والا ھو رھا تھا جب اچانک کمرے کا، دروازہ ھلجا سا کھٹکھا۔ دروازے کی آواز، سن کر جیسے میری جان نکل گئی ھو اس نے بھی ایک دم سے منہ پیچھے ھٹایا اور پریشان ھوگئی۔ اتنا مجھے یاد تھا کہ میں نے گیٹ کو لاک کیا تھا اس لیے یہ جو کوئی بھی ھے یاسمین کے گھر سےدیوار پھلانگ کر آیا ھے۔میرا، دماغ گھوم رھا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ ۔