خوف اور بےعزتی کے ڈر سے میرا لن بھی ڈھیلا پڑ گیا تھا۔ میں نے اپنی آواز کو ایسے بنایا جیسے میں سو رھا تھا جو، دروازہ کھٹکنے کی وجی سے اٹھا ھوں اور آرام سے پوچھا کون۔ تب باھر سے ایک ھلکی سی نسوانی آواز آئی اور میرے بجائے
یاسمین کو مخاطب کر کے بولی باجی ابا بلاندا پیا ای۔ گھر آ۔ یہ آواز سن کر یاسمین کی جیسے جان میں جان آگئی ھو اس نے زور سے سانس لی اور مجھے ریلکس ھونے کا اشارہ کیا اور بولی رجو توں گھر جا میں 5 منٹ وچ آندی آں۔ مطلب رجو تم گھر جاو میں پامچ منٹ میں آتی ھوں۔ھالا جلدی آ ابا رولا پایا ھویا ای۔ مطلب۔ اچھا جلدی آ ابو نے شور مچایا ھوا ھے پھر مجھے کسی کے دروازے سے دور جانے کی آواز آئی ۔ یاسمین نے جلدی سے کپڑے پہننے شروع کر دئیے
تو میں نے اسے اپنے لن کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کہا یار اسے ایسے تو نا چھوڑ کر جاو۔ وہ بولی نہی یار پھر سہی ابھی اپنے ھاتھ سے گزارہ کر لو۔ وہ کپڑے پہن چکی تو میں نے بھی شلوار اوپر کر لی اور اس سے پوچھا رجو گھر جا کر ابے کو کچھ بتاتو نا دے گی۔ وہ ھنس کر بولی ابے کو، اتنا ھوش نھی ھوتا اور رجو کو میں بتا کر آئی تھی تاکہ وہ ابے کا خیال رکھے۔
ابھی جا کر رجو کو 100 روپیہ دینا ھے وہ میری رازدار ھے بس تم کہیں کلثوم کو نا بتا دینا ورنہ وہ ھم دونوں کی جان لے لے گی۔ میں نے کہا میرا کلثوم سے کیا تعلق اورمیں کیوں اسے بتاوں گا۔ تو وہ بولی میں نے دن کو تم دونوں کو اشارے کرتے دیکھ لیا تھا اور ویسے بھی وہ تم سے ضرور چدوائے گی کیونکہ اس کی پھدی میں تندور لگا ھوا ھے
جس کی آگ بجھتی ھی نھی۔ میں ھنس کر بولا تو تم کیا چاھتی ھو میں اس کی آگ بجھاوں یا رھنے دوں۔ وہ بولی مجھے کیا تم بجھاو یا نا بجھاو بس میرے بارے میں اسے پتہ نہ چلے۔ اتنا کہ کر اس نے دروازہ تھوڑا سا کھولا اور باھر جھانکا۔ پھر بڑی تیزی سے باھر نکل گئی اور میں اپنا لن ھاتھ میں پکڑے کھڑا رہ گیا۔ مجھے رجو پر غصہ آ رھا تھا
جس نے آخری لمحات میں ٹانگ اڑا کر میرا سارا مزا خراب کر دیا تھا۔ کلثوم نے بتایا تھا کہ رجو سترہ سال کی انکی سب سے چھوٹی بہن ھے۔ اور اب آواز سے بھی وہ اتنے کی ھی لگ رھی تھی لیکن میں نے اسے دیکھا نہی تھا
اور اس وقت میرا، دل کر رھا تھا کہ کلثوم اور یاسمین سے پہلے رجو کو چودوں لیکن فلحال ایسا ھو نھی سکتا تھا۔ میں کمرے سے نکل کر باتھ روم میں آگیا، اور ہاتھوں سے لن کو ٹھنڈا کرنے لگا۔ دوستوں کو یہ بتاتا چلوں کہ یاسمین اور کلثوم سے میری بات پنجابی میں ھی ھوتی تھی آپ لوگوں کی آسانی کے لیے اسے اُردو میں لکھ رھا ھوں۔ باتھروم سے فری ھو کر میں بیٹھک میں آ کر گھڑی پر ٹائم دیکھا تو شام کے پانچ بج رھے تھے مجھے بھابی کو بھی لینے جانا تھا اور امی کو بھی سسٹر کے گھر سے لانا تھا۔
اس لیے میں گھر کو لاک کر کے بھابی کو لینے چلا گیا۔ شام کا کھانا بھابی کے میکے سے کھایا اور واپس گھر پہنچتے ھوئے سات بج گئے۔ پھر آدھے گھنٹے میں جا کر امی کو بھی لے آیا۔ یہاںً لوگ جلدی سو جاتے ھیں اسی لیے امی اور بھابی بھی جلد ھی اپنے کمروں میں سوگئے۔ میں بیٹھک میں لیٹا ڈیک پر ھلکی آواز میں گانے کو سن رھا تھا۔ ساڑھے گیاہ بجے مجھے ایسا لگا جیسے کوئی دیوار پھلانگ کر آیا ھو۔ میں نے باھر صحن میں دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہی آیا امی اور بھابی کا دروازہ بھی بند تھا۔
واپس مڑ کر بیٹھک میں جانے لگا تو باتھروم میں چھپی کلثوم نظر آگئی وہ جلدی سے میرے ساتھ ھی بیٹھک میں آ گئی اور دروازہ اندر سے لاک کر دیا۔ اور اپنے سینے پر ھاتھ رکھ کر زور زور سے سانس لینے لگی۔ میں اسے دیکھ کر مسکرا رھا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگا لیا۔ وہ بھی میرے سینے سے لگ کر مجھے زور زور سے بھینچنے لگی۔ میں نے اس کے منہ کو پکڑ کر اوپر اٹھایا اور اس کے ھونٹوں کو چوسنے لگا۔ وہ برابر میرا ساتھ دے رھی تھی۔ میرے ھاتھ اس کے مموں کو دبا رھے تھے۔ میں نے قمیض کے نیچے سے ھاتھ اندر لے جا کر اس کے مموں پر رکھ دئیے تو مجھے پتہ چلا کہ اس نے برا نہی پہنی ھوئی۔ میں زور زور سے اس کے ممے مسل رھا تھا اور وہ مست ھوتی جا رھی تھی۔ اب میں نے ھاتھ اس کے پیٹ پر پھیرتے ھوئے اس کی شلوار میں گھسا دیا اور سیدھا اس کی پھدی ہر جا کر رگڑا اس نے نیچے انڈر وئیر بھی نھی پہنا ھوا تھا اور پھدی کے اردگرد جتنی ملائم جگہ تھی وہ بتا رھی تھی کہ ککثوم پوری تیاری کر کے اور نیچے سے صفائی کر کے آئی تھی
[شلوار کے اندر ھی اسکی پھدی کو مسل رھا تھا اور آپ یقین مانیں کہ اسکی پھدی بہت زیادہ گرم ھو کر پانی چھوڑ رھی تھی۔ اس نے خود ھی میرا ناڑا کھول کر میری شلوار کو نیچے گرا دیا۔ میرا لن جو پہلے ھی تیار ھو چکا تھا جھٹکا کھا کر شلوار سے باھر نکلا۔ کلثوم نے میرے لن کو ھاتھ میں پکڑ کر اسے ھلکا سا دبایا اور اسکی لمبائی موٹائی کا، اندازہ لگایا اور بولی کیا بات ھے یار آج تو مزا آئے گا کافی بڑا، اور جاندار لن ھے۔ کیا کھلاتے ھو اسے ؟ میں ھنسا اور کہا یہ جتنا بھی جاندار ھو تمہاری چوت نے اسے دبا کر مار ھی دینا ھے۔ وہ بولی ھاں یہ تو ھے۔ آج میں اسے ایسا نچوڑوں گی کہ تم یہ مزہ زندگی بھر نھی بھولو گے۔ میں نے کہا پھر سوچ کیا رھی ھو نچوڑ دو اسے۔ وہ بولی ایسے نھی تم ادھر میٹریس پر لیٹ جاو پھر میرا کمال دیکھو۔ بیٹھک میں بھابی نے ایک صوفہ رکھا ھوا تھا، اور ایک میٹریس کارپٹ پر بچھایا ھوا تھا۔ ۔ میں اسے پکڑ کر میٹریس پر لیٹ گیا تو، اس نے خود ھی اپنی شلوار اور قمیض اتار دی۔ اور میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر میرے لن کو بڑے پیار سے مسل رھی تھی۔ پھر اس نے جھک کر میرے لن کو اپنے مموں کے درمیان پھنسا کر رگڑنا شروع کر دیا۔ میری بہت سی لڑکیوں سے دوستی رھی ہے لیکن یقین مانیں کلثوم بھت زیادہ ٹرینڈ تھی اور چدوانے کی شوقین بھی۔ وہ ایسی لڑکی تھی کہ اگر اس کا بس چلے تو نان سٹاپ چدواتی رھے اور تھکے نا۔ اہسا لگتا تھا جیسے سالی نے انگلش فلموں کو رٹا لگا کر یاد کیا ھوا تھا۔ وہ اپنے مموں میں بڑے طریقے سے پھنسا کر اوپر نیچے کر رھی تھی اور مجھے ھلنے سے منع کر، رھی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ سانس لینے کے لیے رکی اور بولی بتاو مزہ آ رھا ھے یا اور مزہ دوں ۔ میں نے کہا یار آج اپنا سارہ ٹیلنٹ دیکھا دو۔ وہ ھنسی اور بولی اچھا جی تو پھر دیکھو میرا ٹیلنٹ۔ اتنا کہنا تھا کہ اس، نے میرا لن اپنے منہ میں لے لیا۔ وہ بڑے طریقے سے میرے لن کو چاٹ رھی تھی کبھی فل منہ میں حلق تک لے جاتی اور کبھی منہ سے نکال کر زبان سے ٹوپی چاٹنا، شروع کرتی اور نیچے تک جاتی پھر میری ٹوپی کے منہ کو کھول کر اپنی زبان اس کے اندر گھسانے کی ناممکن کوشش کرتی اور اسکی یہ کوشش میری جان نکال رھی تھی۔ میں جو یہ سمجھتا تھا کہ میں جلدی ڈسچارج نھی ھوتا اب میرا لن پھٹنے پر آیا ھوا تھا۔ میں نے زبردستی اپنے لن کو پکڑ کر اسے روکا، اور کہا یار مجھ سے برداشت نھی ھو رھا میں ڈسچارج ھو جاوں گا۔ وہ ایک بار پھر مسکرائی اور بولی میں بھی تو وہی کوشش کر رھی ھوں۔ یار میں تمہارے منہ یں ڈسچارج ھو جاوں گا وہ کہنے لگی تو ھو جاو نا روکا کس نے ھے۔ یہ سننا تھا کہ میں نے اپنا ھاتھ لن سے ھٹا لیا۔ ایک بار پھر اس نے پورا لن حلق تک منہ میں لے کر مزید زور سے چوسنا شروع کر دیا۔ اب وہ ھلکا، سا زبان بھی میرے لن ہر مارتی تو میری جان نکل جاتی۔ لیکن اب وہ میرے لن کو منہ سے نکال نھی رھی تھی بلکہ اندر ھو اس کو جھٹکے دے رھی تھی اور پھر میرا ضبط جواب دے گیا اور پہلی دفعہ میں ایک لڑکی کے منہ میں ڈسچارج ھو رھا تھا۔ جیسے ھی میرے لن کو جھٹکا لگا اس نے اپنے ایک ھاتھ سے میرے لن کو زور سے پکڑ کر منہ کے اندر ایسے دبا لیا جیسے ڈر ھو کہ میں لن منہ سے نکلتے ھی بھاگ جاوں گا۔ میں مسلسل ڈسچارج ھو رھا تھا اور مجال ھے کے اس نے میرے لن کو منہ سے نکالا ھو بلکہ میرے لن کے ھر جھٹکے کے ساتھ اس کے منہ اور ھاتھ کی سپیڈ بڑھ جاتی۔ میں شائد ھی کبھی اتنا ڈسچارج ھوا ھوں جتنا کلثوم کے منہ نے کروا، دیا تھا۔ اب مجھے لن پر گد گدی محسوس ھوتی تھی چنانچہ میں نے زبردستی اسے روکا تو اس نے میرے لن کو چھوڑ کر مسکراتے ھوئے مجھے دیکھا ۔ اس کا منہ میری منی سے برا ھوا تھا۔ اس نے منہ صاف کرنے کے لیے ادھر ادھر دیکھا لیکن کچھ نظر نھی آیا۔ تب میں نے میٹریس کے نیچے سے اس کپڑا نکال کر دیا جو میں نے شام کو، احتیاطاً چھپایا تھا، اور کپڑے کے ساتھ ھی کنڈوم کا پیکٹ بھی نکل آیا
کلثوم نے کنڈوم کا پیکٹ اٹھایا اور بولی چلو ایک کنڈوم کی تو بچت ھو گئی۔ اس نے پیکٹ کو کھولا تو اندر سے کنڈوم کے ساتھ اسی برینڈ کی کریم تھی ۔اس، نے پوچھا یہ کس لیے ھے تو میں نے کہا یہ ٹائم بڑھاتی ھے اور جلدی ڈسچارج نھی ھونے دیتی۔ واہ یار یی تو بڑے کمال کی چیز ھے پھر۔ میں نے کیا ھاں ھے تو کمال کی لیکن اس کے لگانے کے بعد تم اس کو سک نہی کر سکو گی اور جو مزہ تمہاری سکنگ نے دیا ھے وہ تو کنواری چوت بھی نہی دے سکتی۔ وہ مسکرا کر میرے نذدیک ھو گئی اور ایک بار پھر میرے لن کو پکڑنے لگی لیکن اس بار میں نے اسے کھینچ کر لٹا دیا اور اس کے مموں کو چوسنا شروع کر دیا۔ اس کے ممے بھی بڑے تھے لیکن یاسمین سے چھوٹے۔ میں اس کے مموں کو کاٹتا، تو وہ تڑپتی۔ میں کبھی اسکی گردن پر تو کبھی چہرے اور مموں کو چوستا۔ چونکہ دوسری باری تھی تو میرا شیر بھی آرام سے اٹھ رھا تھا اور یہ میں جانتا تھا کہ دوسری باری میں میرا سٹیمنا غیر معمولی طور پر زیادہ ھو جاتا تھا۔ اور جو کریم میرے پاس تھی وہ بھی آزمودہ تھی۔ اب میں کلثوم کو ٹف ٹائم دینا چاھتا تھا۔ اس لیے میرا، زور کسنگ پر تھا مموں کو چوستے چوستے میں نے زبان سے لکیر بناتا اس کے بیلی بٹن تک جاتا اور پھر اوپر مموں پر جا کر انھیں چوسنا شروع کر دیتا۔ ایک بار زبان پھیرتے پھیرتے میں بیلی بٹن سے نیچے گیا لیکن اسکی پھدی سے زرا اوپر رک گیا۔ وہ میرا سر دبا کر مزید نیچے کرنے کی کوشش کر رھی تھی۔ میں سمجھ گیا کہ وہ چاھتی ھے کہ میں اسکی پھدی چاٹوں لیکن میں جان بوجھ کر پھر مموں کو چوسنے لگا اور اپنا ایک ھاتھ اس کے چوت ہر رکھ دیا۔ وھاں تو جیسے سیلاب آیا ھوا تھا۔ اس کی چوت فل گیلی ھو چکی تھی۔اور چوت کا پانی اس کی گانڈ تک جا رھا تھا۔ میں نے اسی کپڑے جس سے کلثوم نے منہ صاف کیا تھا اس کی چوت صاف کی اور ھاتھ سے مسلنے لگا۔ چوت کا سائز بتا رھا تھا کہ بہت سوں نے اس کو سیراب کیا ھے۔ میں مسلسل اس کے مموں کو کاٹ رھا تھا، اور میرا دائیاں پورا ھاتھ اس کی چوت میں گھوم رھا تھا۔ پھر میں نےھاتھ اس کی گانڈ پر پھیرا اور ایک انگل اس میں داخل کرنے کی کوشش کی لیکن کلثوم نے گانڈ کو زور سے بھینچ لیا۔ میں نے بھی زور سے اس کے ممے پر کٹا تو اس نے گانڈ ڈھیلی چھوڑ دی اور مجھے تھپڑ مار کر بول آرام سے کرو ناں۔ میں نے کہا اگر اب تم نے گانڈ ٹائیٹ کی تو پھر اور زور سے کاٹوں گا۔ میری بات سن کر اس نے دوبارہ گانڈ ٹائیٹ نہی کی۔ اب میری دو انگلیاں اکھٹی اس کی گانڈ کے اندر باھر حرکت کر رھی تھیں اور مستی میں میرے جسم کو چومتی اور کبھی دانتوں سے کاٹتی۔ اب میرا لن پھر پوری طرح تیار تھا۔ میں نے اپنا لن ایک بار پھر اس کے منہ کے پاس کر کے کہا اسے اچھی طرح گیلا کرو مجھے تمہاری گانڈ مارنی ھے۔وہ بولی یار میری چوت کو بھی تھوڑا پیار کر لو ۔ اب میں 69 کی پوزیشن میں آیا تو اس نے ایک بار پھر میرے لن کو چوسنا شروع کر دیا اور میری زبان اس کی چوت میں حرکت کر رھی تھی۔ چند منٹ بعد میں نے لن اس کے منہ سے نکالا اور سیدھا ھو کر کریم کھول کر اس پر لگانے لگا تو، اس نے کریم میرے ھاتھ سے پکڑ کر خود ھی میرے لن پر لگائی اور اسے ھلکا ھلکا مساج کرنے لگی۔ چند سکینڈ بعد ھی کریم نے اثر دکھایا اور اب مجھے یقین تھا کہ میں لمبی اننگ کھیلنے کے لیے تیار ھوں ۔ میں سیدھا لیٹا ھوا تھا۔ اس نے اپنی چوت کو میرے لن پر ایڈجسٹ کیا اور آہستہ آہستہ نیچے ھو رھی تھی تب اچانک میں نے نیچے سے جھٹکا مارا اور میرا پورا لن اند جا کر اس کی چوت کی دیواروں سے ٹکرایا۔ وہ اچانک جھٹکے سے آگے کی طرف میرے اوپر گری تو میں نے اس کے ممے منہ میں ڈال کر چوسنے شروع کر دئیے اور نیچے سے جھٹکے مارنے لگا۔ اب وہ بھی خود ھی اور نیچے ھو رھی تھی اور نیچے سے میں جھٹکا مارتا تو میرا لن اس کی چوت کی جڑوں تک جا کر لگتا
تقریباً 5 منٹ تک وہ میرے لن پر بیٹھ کر سواری کرتی رہی پھر بول یار سلمان اب تم اوپر آو میں تھک گئیں ھوں۔ میں نے اٹھ کر اسے صوفے پر گھوڑی بنایا اور اپنا لن اسکی گانڈ پر ایڈجسٹ کرنے لگا۔ اس کی چوت سے نکلے پانی سے اس کی گانڈ گیلی کی اور اپنے لن کی ٹوپی اوپر رکھ کر دبانا شروع کی۔جب ٹوپی اندر چلی گئی تو میں سیدھا ھوا اور ایک ھاتھ اسکی کمر پر رکھ اس دبایا تو، اس نے کمر اور نیچے کر لی اور اس کی گانڈ بالکل میرے برابر آ گئی۔ میں نے دو تین بار اپنے لن کی ٹوپی اندر باہر کی اور چوتھی بار پورے زور سے جھٹکا مارا تو پورا لن اس کی گانڈ میں جا چکا تھا۔ اس نے نیچے سے چییخ ماری لیکن شکر ھے وہ اتنی اونچی نہی تھی کہ کمرے سے باھر جاتی۔ میں رک گیا تو وہ بولی یار آرام سے کرو یہ اب روز تمہارے لن کو کھائے گی۔ ساری آج پھاڑ دو گے تو کل کیا کرو گے۔ میں نے ھنس کر کہا جناب پہلےھی محلے والوں نے اسے ادھیڑا ھوا ھے ۔ میں تو پھٹی ھوئ کو پھاڑ رھا ھوں۔ وہ بولی تو کیا کروں مجھ سے گرمی برداشت ھوتی ہوتی اور اماں ابا کو میرا رشتہ نھی مل رھا۔ تم بھی تو چود رھے ھو نا لیکن شادی تونہی کرو گے۔ میں نے اس کی بات سنی ان سنی کر کے لن کو آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا۔ اس نے بھی اپنی گانڈ کو جھٹکے مارنا شروع کر دیے۔ تھوڑی دیر بعد اس کے جسم نے اکڑنا شروع کر دیا۔ مجھے سمجھ لگ گئی کہ وہ ڈسچارج ھو رھی ھے۔ میرے جھٹکوں میں مزید تیزی آگئی۔ پھر اس نے ایک دم سے اپنی گانڈ کو فل ٹائیٹ کیا اور اس کی چوت کا پانی صوفے پر گر رھا تھا۔ میرا لن اس کی گانڈ میں پھنسا ھوا تھا وہ ایسے ھی صوفے ہر لیٹ گئی اور میں اس کے اوپر تھا۔ لیکن میرا ابھی ڈسچارج ھونے کے چانسز نھی تھے۔ اس نے میرے لن کو پیچھے ھاتھ کر کے باھر نکالا اور مجھے اوپر سے ھٹا کر سیدھی ھو گئی۔ مجھے اندازہ تھا کہ ڈسچارج ھونے کے بعد وہ چند منٹ لے گی ریلکس ھونے کے لیے۔ میں بھی اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔ اس نے پاس پڑے میز سے پانی کی بوتل اُٹھائی اور منہ سے لگا لی۔ پانی پینے کے بعد ایک بار پھر میں نے اپنا لن اس کے ھاتھ میں پکڑا دیا۔ وہ میرے لن کو زور زور سے جھٹکے دے رھی تھی۔ میں نے اسے ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا اور خود صوفے پر بیٹھا رھا۔ وہ میری گود میں آ کر بیٹھ گئی اور مجھے کسنگ کرنے لگی میں نےاپنی زبان اس کے منہ کے اندر کی تو وہ اسے چوسنے لگی۔ مجھے ایسا لگ رھا تھا کہ وہ میری زبان کھا جائے گی۔ آپ لوگ یقین کریں کہ میں نے اس کے بعد بہت سی لڑکیوں سے سیکس کیا ھے لیکن اس کے اند ایک جنونیت تھی سیکس کی۔ اس نے میری گود میں بیٹھے بیٹھے اپنی چوت کو میرے لن پی ایڈجسٹ کیا اور اوپر نیچے ھو رھی تھی۔ چند منٹ بعد میں نے اسے کہا کہ وہ اپنی گانڈ میں لے اس نے ایسے بیٹھے بیٹھے گانڈ میں لینے کی کوشش کی لیکن سہی سیٹنگ نھی ھو رھی تھی ۔ پھر اس نے خود ھی اپنا زاویہ بدلہ اور اب اس نے میری گود میں میری طرف کمر کر لی اور منہ دوسری طرف کر لیا تو اس کی گانڈ بالکل پرفیکٹ میرے لن پر آگئی۔ اس نے گانڈ کو خود ھی سیٹ کیا اور میرے لن کو پکڑ کر اندر لے لیا۔ اب وہ تھوڑا سا آگے جھکی اور جھکے جھکے اور نیچے ھو رھی تھی۔ میں نے بھی اس کے بازووں کے نیچے سے ھاتھ آگے کر کے اس کے مموں کو پکڑا، اور ان کو دباتا اور نیچے سے اس کی گانڈ میں جھٹکے دیتا۔ دس منٹ بعد جب میں ایک ھاتھ سے اس کے ممے کو اور دوسرا ھاتھ آگے سے اس کی چوت کو مسل رھا تھا تب وہ ایک بار پھر سےمیری گود میں ھی ڈسچارج ھو چکی تھی اس کا گرم گرم پانی میرے ھاتھ پر گرا۔ وہ رک گئی اور بولی یار میں تھک گئی ھوں۔ میں نے کیا یار مجھے تو، ڈسچارج کرواو۔ وہ بولی تم بوتل کے پانی سے اس کو دھو کر کریم کو صاف کرو میں سکنگ کر کے ڈسچارج کروا دیتی ھوں۔ میں نے بوتل اٹھائ اور دروازے کے پاس جا کر لن کو اچھی طرح دھویا۔ جو دوست کریم استعمال کرتے ھیں ان کو پتہ ھو گا کہ کریم سے لن کے پٹھے سن ھو جاتے ھیں جس کے بعد لن کے اوپر کچھ فیل نھی ھوتا اسی لیے بندہ ڈسچارج بھی نھی ھوتا ۔ میں نے لن کو دھونے کے بعد کلثوم کی قمیض سے اسے ڈرائی کیا اور ایک بار پھر کلثوم کے منہ میں گھسا دیا۔ ایک بار پھر وہ اپنے مخصوص انداز میں سکنگ کر رھی تھی۔ تقریبا ً5ً..6 منٹ کی سکنگ کے بعد ایک بار پھر میرا لن ٹائیٹ ھو رھا تھا۔ کلثوم نے بھی یہ نوٹ کیا تو اس کی سپیڈ اور تیز ھو گئی۔ اور ایکبار پھر میں کلثوم کے منہ میں ڈسچارج ھو رھا تھا۔ اس نے بھی ایک بار پھر میرے لن کو پکڑ کر زور سے اپنے منہ میں دبا رکھا تھا۔ اہسا لگتا تھا جیسے وہ آخری قطرہ تک نچھوڑنا چاھتی ھو۔ میں نے اسے پیچھے ھٹایا اور گھڑی کی طرف دیکھا تو ڈیڑھ بج رھا تھا۔ وہ کپڑے پہننے لگی اور بولی کل کتنے بجے آوں میں نے ھنس کر کہا ادھر ھی رک جاو کیا کرنا ھے جا کر۔ وہ بولی نھی ابا کسی بھی وقت اُ ٹھ کر شور مچا دیتا ھے۔ کل پھر آوں
۔۔۔۔۔۔۔۔ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ