کل پھر آوں گی۔ یہ کہ کر وہ آرام سے دروازہ کھول کر نکل گئی۔ مین بھی تھک چکا تھا، اس لیے دروازے کو، اندر سے لاک کیا اور ننگا ھے لیٹ گیا۔
اگلے دن میں صبح تیار ھو کر پلاٹ ہر چلا گیا جہاں مستری مزدوروں نے آنا تھا۔ پورا دن سامان ارینج کرنے اور مزدورں کے پیچھے بھاگنے میں نکل گیا۔ شام کو چھے بجے فری ھو کر گھر پہنچا اور کپڑے بھت گندے ھو چکے تھے اور تھکاوٹ بھی ۔ اس لیے فوراً نہانے کے لیے باتھروم میں گھس گیا۔ فریش ھو کر باتھ روم سے نکل رھا تھا جب میری نظر سامنے والی چھت پر پڑی جہاں ایک لڑکی چھت سے دھلے کپڑے اتار رھی تھی۔ دیکھنے میں اس کا قد تقریباً پانچ فٹ ھو گا لیکن اس کی باڈی فزیک بتا رھی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ 17 یا 18 سال کی ھو گی۔ یہ یقیناً رجو تھی کلثوم کی چھوٹی بہن جو اپنے چھت سے کپڑے اتار رھی تھی۔یہ کہنا بے جا نہ ھو گا کہ رجو اُن دونوں سے زیادہ خوبصورت تھی۔میں باتھ روم کے دروازے پر کھڑا ھو کر اسے دیکھنے لگا۔ ایک بار اسکی نظر مجھ سے ملی تو وہ بڑی معصوم سی لگی لیکن مجھے کلثوم اور یاسمین کو دیکھ کر اندازہ ھو چکا تھا کہ جلد یا بدیر یہ بھی اس راہ کی مسافر ھو گی۔اور اُن دونوں سے زیادہ قیامت ڈھائے گی ۔ رجو کو دیکھ کر مجھے ایک دن پہلے والا وقعہ بھی یاد آگیا۔ اگر تب رجو نہ آتی تو میں یاسمین کو چود چکا ھوتا۔ اور یاسمین کا سوچتے ھوئے میرا لن کھڑا ھو رھا تھا۔ میں نے باتھ روم سے باھر دیکھا تو، صحن میں کوئی نھی تھا۔ میں نے رجو کو اشارہ کیا تو وہ ھنسنے لگی۔ میرا لن تو پہلے ھی کھڑا ھو، رھا تھا میں نے وہیں کھڑے کھڑے اپنے لن کو ھاتھ سے اوپر نیچے کرنے لگا۔ یہ دیکھ کر رجو اور ھنسی اور کپڑے اُٹھائے نیچے چلی گئی۔ میں کمرے کی طرف گیا تو بھابی اور امی کچن میں نظر آئیں۔میں کپڑے بدل کر کچن میں آگیا اور امی اور بھابی سے سارے دن کے کاموں کے بارے میں بات کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد گیٹ کھڑکا تو، میں اُٹھ کر گیٹ کھونے چلا گیا۔ باھر دیکھا تو رجو ھاتھ میں پلیٹ پکڑے کھڑی تھی اور اس کے پیچھے کلثوم کھڑی تھی۔ میں ایک سائیڈ پر ھو گیا اور وہ دونوں اندر آگئیں ۔ کلثوم نے میرے ہاس سے گزرتے ھوئے مجھے ھاتھ مارا میں نے کچن کی طرف دیکھا وھاں کوئی باھر نھی رجو پلیٹئں پکڑے کچن کی طرف جا رھی میں نے کلثوم کا ھاتھ پکڑ کر ھلکا سا موڑا اور پھر چھوڑ دیا۔ میرے دل میں رات والا وقعہ کی وجہ سے چوع تھا، اس لیے میں کلثوم کے پیچھے کچن میں جانے کی بجائے بیٹھک میں آگیا۔ لیکن چند منٹ بعد ھی رجو بیٹھک میں آگئی اور بولی بھائی باجی کلثوم پوچھ رھی ھے آپ کے پاس سونونگم کے نئے گانے ھیں ۔ میں نے نے کہا ھاں کافی کیسٹس پڑی ھیں تم دیکھ لو کون سے چاھئں ۔ میری بات سن کر وہ ڈیک کے پاس چلی گئی میں بھی اس کے پاس گیا اور موقع دیکھتے ھوئے اسے پکڑ کر سینے سے لگا لیا وہ زور زور سے اپنا آپ چھڑا رھی تھی۔ لیکن میں نے زبردستی اسےگالوں پر کس کر دی وہ بولی بھائی نہ کریں آپی آ جائے گی۔ میں نے اسے چھوڑ دیا وہ پھر سے کیسٹ ڈھونڈنے لگی۔ میں نے اپنی جیب میں ھاتھ مارا اور سو روپیہ نکال کر رجو کو پکڑا دیا۔ اور کہا یہ رکھ لو کچھ کھا لینا۔ اس نے سو روپیہ مٹھی میں دبایا اور ایک کیسٹ پکڑ کر جلدی سے باھر نکل گئی۔ تھوڑی دیر بعد دونوں بہنیں گھر چلی گئیں۔ میں نے بھی کھانا کھایا اور بازار چلا گیا۔ مجھے ٹائمنگ کی گولیا لینی تھی کیونکہ پچھلی رات جس طرح کلثوم نے سکنگ کی تھی میں چاھتا، تھا کہ وہ آج بھی ویسے ھی کرے اور لن پر کریم لگا کر ایسا نھی ھو، سکتا تھا اس لیے گولیاں ضروری تھیں۔ رات بارہ بجے کلثوم ایک بار پھر میرے ساتھ بیٹھک یں موجود تھی لیکن آج میں پہلے سے تیار تھا۔ کلثوم سے مل کر ایک بات سمجھ آگئی تھی کہ وہ بھت فاسٹ اور بے باک لڑکی ھے۔ اس کی عمر کی لڑکیوں کی شادی ھو کر بچے بھی ھو چکے ھوتے ھیں۔ لیکن وہ کنواری تھی اور جس عمر میں تھی اس میں سیکسول ڈیزائر بھت زیادہ ھوتی ھیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ روزانہ رات کو مقررہ ٹائم پر پہنچ جاتی تھی۔ اس کی فیملی بھی کافی غریب تھی اور شائد یہ بھی ایک وجہ تھی اس کے کنوارے رھنے اور سیکس ایڈکشن کی۔ وہ جیسے ھی کمرے میں داخل ھوئ مجھ سے ایسے لپٹی جیسے سالوں بعد ملی ھو۔ میں نے اسے گلے لگایا اور اس کی کمر پر ھاتھ پھیرنا شروع کر دیا اور ساتھ ھی اسے فرنچ کس کرنا، شروع کر دی۔ اس نے بھی اپنی روایتی تیزی دیکھاتے ھوئے مجھے زور سے بھینچا اور اپنا، ایک ھاتھ سے میرا لن پکڑ کر لیا۔ وہ بیچارہ تو پہلے ھی قید سے آزاد ھونا چاھتا تھا۔ کلثوم کا ھاتھ لگتے ھی بے قابو ھونے لگا۔ اس کی بے چینی محسوس کر کے کلثوم۔نے خود ھی میرے ٹراوزر نیچے کر دیا اور ھاتھ میں پکڑ کر اس کو مسلنے لگی۔ اس کس کرتے کرتے میں صوفے پر بیٹھ گیا، اور وہ میری خود ھی شلوار اتار کر میری جھولی میں بیٹھ چکی تھی۔
میں نے اس کی قمیض اتاری اور اس کے ممے منہ میں لے کر چوسنا شروع کیے۔ وہ اپنے مموں کو دھکا دے کر پورے میرے منی میں ڈالنے کی کوشش کرتی اور تھوڑی دیر بعد وہ میری گود سے نکل کر بولی اج تو تم کافی کام کر کے آے ھو تھکے نھی۔ میں نے کیا تھک تو گیا ھوں لیکن تمھاری سکنگ ٹکنے نھی دے رھی وہ بولی اچھا یہ بات ھے تو پھر آپ آرام سے لیٹو اور مزے لو یہ کہ کر اس نے مجھے صوفے ہر ھی لیٹا دیا اور خود صوفے پر بیٹھ کر میرے لن کو مساج کرنے لگی۔ پھر اس نے ٹوپی کو منہ میں لیا اور لولی پوپ کی طرح چوپا لگاتی اس کا چُوپا اتنا زبردست تھا کہ مجھے لگتا کہ شائد گولیوں کا، اثر بھی بےکار جائے۔ کبھی وہ لن کے سوراخ پر زبان پھیرت اور زبان کو سوراخ کے اندر لے جانے کی کوشش کرتی تو کبھی زابان پھیرتے پھیرتے ٹٹوں تک جاتی اور انھیں اپنے منہ میں لییتی پھر ایسے ھی زبان پھیرتے پھیرتے ٹوپی تکی آتی ۔ تقریباً دس منٹ تک سکنگ کے بعد اس نے ایک تکیہ میری کمر کے نیچے ایسے رکھا کہ میرا لن خود بخود اوپر ھو گیا۔ وہ میرے اوپر آ گئی میں سمجھا کہ وہ اپنی پھدی ﺳﯿﭧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﻭﮨﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮧ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﮭﺪﯼ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﮬﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﮍﮐﮯ ﺗﻨﮓ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮬﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﮬﻨﺴﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﻧﮭﯽ ﯾﺎﺭ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮭﯽ ﺗﻮ، ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮧ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﮭﺪﯼ ﺍﺏ ﭘﮭﺪﺍ ﺑﻦ ﭼﮑﯽ ﮬﯽ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﻣﺎﮞ ﺍﺑﺎ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺁﺗﯽ ﻧﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﮔﺰﺍﺭﺍ ﻧﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﮬﻨﺴﺎ ﮐﮩﺎ ﯾﺎﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮬﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﺍ ﺷﻮﮬﺮ ﺍﺱ ﭘﮭﺪﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﮯ ﮔﺎ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺼﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮬﯽ ﮬﻮﮔﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﻧﮭﯽ ﮬﻮ ﮔﺎ۔ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﮭﺪﺍ ﻧﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﺖ ﮬﻮ ﮔﺎ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮧ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻮﺳﻨﺎ ﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮬﯽ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﺮ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﻓﮑﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﯾﮯ ﻓﻠﺤﺎﻝ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎﺭﻭ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻮﺕ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮬﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮨﺮ ﻣﻼ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮎ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﺷﯿﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻦ ﭘﺮ ﺍﯾﮉﺟﺴﭧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮬﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﯿﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺟﺐ ﭨﻮﭘﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺑﻮﻟﯽ ﯾﺎﺭ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﺭﻭ ﯾﮧ ﺳﻨﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮬﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﺑﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﻣﺎﺭﺍ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻦ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﻧﺪﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﮬﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﭼﯿﺦ ﻧﮑﻠﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺳﻨﺒﮭﻞ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﮬﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺍﻭﭘﺮ، ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻟﻦ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﮬﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﺑﺎﮬﺮ ﮬﯽ ﭨﮑﺮﺍ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﻓﮯ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﯽ ﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮔﮭﻮﮌﯼ ﺑﻨﺎﻭﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ، ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮬﯽ ﮔﮭﻮﮌﯼ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻟﻦ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭘﺮ ﺳﯿﭧ ﮐﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮈﺍﻻ ﭘﮭﺮ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﮈﺍﻻ۔ ﻣﯿﮟ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻣﺎﺭ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻧﮯ ﺳﺨﺖ ﮬﻮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﻭﮦ ﮈﺳﭽﺎﺭﺝ ﮬﻮ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﮭﭩﮑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺰﯼ ﺁﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﺍﻭﺭ ﺻﻮﻓﮯ ﮨﺮ ﮔﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻭﮦ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﻟﭩﯽ ﮬﯽ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻮﺕ ﮐﻮ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻟﭩﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﻮ ﺍُﭨﮭﺎﺋﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﮐﮭﺎ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﭘﭩﮯ ﺳﮯ ﭼﻮﺕ ﮐﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺻﻮﻓﮯ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﮭﮍﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﻦ ﮐﻮ ﭼﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺴﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺖ ﺳﭙﯿﮉ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﭙﯿﮉ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ ﯾﺎﺭ ﺍﺑﺪﺭ ﮈﺳﭽﺎﺭﺝ ﻧﮧ ﮬﻮﻧﺎ ﺟﺐ ﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﺳﮑﻨﮓ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮈﺳﭽﺎﺭﺝ ﮬﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮬﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻟﻦ ﺑﺎﮬﺮ ﻧﮑﺎﻻ ﻭﮦ ﺻﻮﻓﮯ ﮨﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮬﻨﮯ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﯿﺮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮔﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﺴﻢ ﺍﮐﮍﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﺳﮑﻨﮓ ﺗﯿﺰ ﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﻟﻦ ﺣﻠﻘﺘﮏ ﻟﯿﺎ ﯾﮧ ﻭﮦ ﻣﻮﻗﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺯﻭﺭﺩﺍﻉ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﻣﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﮭﻠﮯ 30 ﻣﻨﭧ ﺳﮯ ﺭﮐﺎ ﮬﻮﺍ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻠﻖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮈﺳﭽﺎﺭﺝ ﮬﻮﺍ۔ ﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﺁﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻦ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﮬﺮ ﻧﮑﺎﻻ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﮈﺳﭽﺎﺭﺝ ﮬﻮ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺩﮬﺎﺭﯾﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﺮ ﮔﺌﯿﮟ ۔ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﻟﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﭼﻮﺳﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯﭼﻮﺳﺘﯽ ﺭﮬﯽ ﮐﮧ ﺍﺧﺮﯼ ﻗﻄﺮﮦ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﺍ ﺷﯿﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﮬﯽ ﮈﮬﯿﻼ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﻭﭘﭧ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ ﺁﺝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﺎﻓﯽ ﮬﮯ ﺻﺒﺢ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﺳﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻣﺎﺳﯽ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮐﺪﮬﺮ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺑﻮﻟﯽ ﻓﯿﺼﻞ ﺁﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﮬﻮﮔﺎ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﺭﺟﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﺎ ﮔﮭﺮ ﮨﺮ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ۔ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻤﮏ ﺁﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺷﺎﺋﺪ ﻧﻮﭦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﻮﮞ ﻣﺎﻧﻮ ﮔﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮬﺎﮞ ﺑﻮﻟﻮ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﭘﻠﯿﺰ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ۔ ﺗﻤﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﭽﯿﺎﮞ ﮬﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﻗﺘﯽ ﻃﻮﺭ ﮨﺮ، ﺍﺳﮯ ﭨﺎﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺩﻝ ﮐﮩﺎﮞ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻣﺴﺘﺮﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﺝ ﮐﮭﺎﻧﺎ کزن ﺳﺴﭩﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺁﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺑﮭﯽ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﺪﻋﻮ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﮐﻠﺜﻮﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺗﻮ ﺻﺒﺢ ﺻﺒﺢ ﻓﯿﺼﻞ ﺁﺑﺎﺩ ﺟﺎ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺁﺝ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﭼﮑﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻟﮕﺎﺅﮞ ﺷﺎﺋﺪ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﮬﺎﺗﮫ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﺎﻧﭻ ﺩﻥ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻮ ﮐﻠﺜﻮﻡ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﻧﮭﯽ ﭼﮭﻮﮌﻧﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﻧﮧ ﺟﺎ ﺳﮑﺎ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﺮﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﻓﺮﯼ ﮬﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺴﭩﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﯿﮑﮯ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﮬﮯ۔ ﺍﺏ ﺍﻣﯽ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮬﻮ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺑﮩﺎﻧﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﭘﮭﻮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎ، ﺭﮬﺎ ﮬﻮﮞ ﺍﺩﮬﺮ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﺁ ﮐﺮ، ﺍﻣﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺍﻣﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻥ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ ﭘﮭﺮ ﺟﻠﺪﯼ ﺁﺟﺎﻧﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻣﯽ ﮐﮯ ﭘﺮﺱ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﭼﺎﺑﯿﺎﮞ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮬﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ۔ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ۔ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺑﺞ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﯾﮟ ﮈﻭﺑﺎ ﮬﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﺑﻮﺟﮫ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﻻﺋﯿﭩﮟ ﺁﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮐﮧ ﺷﺎﺋﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺟﺎﺋﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﻣﻨﭧ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮬﯽ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﮨﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﮐﮯ ﺍﺑﮯ ﮐﻮ، ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ، ﺍﺑﺎ ﺗﻮ ﻧﯿﻢ ﭘﺎﮔﻞ ﮬﮯ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ﺭﺟﻮ ﯾﺎ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ۔ ﻭﮨﯽ ﮬﻮﺍ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻠﯽ ﺗﻮ، ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ، ﺍﺑﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﮬﻮ، ﺳﻮﭺ ﺟﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮬﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﮐﻮ ﮬﻠﮑﺎ، ﺳﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺑﮯ ﮐﻮ، ﺳﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﯽ ﮐﯽ ﻃﺒﻌﺖ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﮨﺮ ﻧﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻣﯽ ﮐﮧ ﺭﮬﯽ ﮬﯿﮟ ﺁ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﭘﮑﺎ ﺩﻭ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﯾﮟ ﺍﺑﮯ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﮐﺮ ﺁﺗﯽ ﮬﻮﮞ۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮧ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺑﮯ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﯽ ﮬﻮﺵ ﻧﮭﯽ ﮬﻮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺳﮏ ﻧﮭﯽ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﻠﮑﻞ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ، ﺁ ﮐﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ ﮨﺎﻧﭻ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺭﺟﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﮭﻼﻧﮓ ﮐﺮ ﺁ ﮔﺌﯽ۔ ﺭﺟﻮ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﻮﻟﯽ ﺑﺎﺟﯽ ﺍﯾﺪﮬﯽ ﺍﻣﯽ ﺗﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮭﯽ ﮔﮭﺮ۔ ﯾﺎﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﭼﭗ ﺭﮬﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﻟﯽ ﮬﺎﻥ ﺟﯽ ﻓﺮﻣﺎﺅ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﺎﺭ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺩﻝ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺑﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮨﮍﯼ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺭﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ ﮬﺎﮞ ﺟﯽ ﭘﺘﮧ ﮬﮯ ﺁﺝ ﺑﺎﺟﯽ ﮐﻠﺜﻮﻡ۔ﺟﻮ ﮔﮭﺮ ﮨﺮ ﻧﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﮐﺎ، ﺧﯿﺎﻝ ﺁﮔﯿﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﭘﭽﺠﻠﮯ ﺩﻭ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺟﺎﮒ ﮐﺮ ﭘﮩﺮﮦ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﮬﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺑﺎ ﻧﮧ ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﮞ ﻧﮧ ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺭﺟﻮ ﺑﻈﺎﮬﺮ ﺑﭽﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮏ . ﻭﯼ ﺑﭽﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﭘﺘﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻠﺜﻮﻡ ﮐﺐ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ، ﮐﺐ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﯽ ﺗﻮ ﮬﻨﺲ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻟﯽ ﺑﺎﮈﯼ ﮔﺎﺭﮈ ﮬﻮ۔ ﻭﮦ ﺷﺮﻣﺎ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﺎﺭ ﺍﮔﺮ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﮬﻤﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻭﻗﺖ ﺩﮮ ﺩﻭ۔ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﺑﻮﻟﯽ ﻧﮭﯽ ﺳﺎﺣﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﻧﮭﯽ ﺍﺑﺎ ﺟﺎﮒ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﮬﺮ ﻧﮭﯽ ﺭﮎ ﺳﮑﺘﯽ۔ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺁﻭﮞ ﮔﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺍﺩﮬﺮ ﺁﺟﺎﻧﺎ ﮬﻢ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮭﯽ ﮬﻮﮔﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﯾﺎﺭ ﺗﻢ ﺍﺩﮬﺮ ﺁﺟﺎﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﯿﻼ ﮬﯽ ﮬﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﺭﺟﻮ ﮐﻮ ﺍﺑﮯ ﮐﮯ پاﺱ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﻧﺎ۔ ﻭﮦ ﺗﻨﮏ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ ﺟﯽ ﻧﮭﯽ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﺮﮦ ﻧﮭﯽ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻠﺜﻮﻡ ﻣﺠﮭﮯ 200 ﺭﻭﭘﮯ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ﯾﮧ ﮐﻨﮕﻠﯽ ﮐﯿﺎ ﺩﮮ ﮔﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮬﮯ ﺗﻮ، 200 ﺭﻭﭘﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﮯ ﻟﻮ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮ ﺩﻭ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ 200 ﺭﻭﭘﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺭﺟﻮ ﮐﮯ ﮬﺎﺗﮫ ﮨﺮ ﺭﮐﮭﮯ۔ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﺑﻮﻟﯽ ﺳﺎﺣﺮ ﯾﮧ ﺑﮭﺖ ﮐﻤﯿﻨﯽ ﮬﮯ ۔ ﺭﺟﻮ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺭﺟﻮ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﮩﺮﮮﺩﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻻﻟﭻ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﮬﮯ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﺁﺳﺎﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﺟﻮ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﮬﻤﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﭧ ﺩﻭ ﮬﻢ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﮔﭗ ﺷﭗ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﻧﺎ۔ ﺭﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍُﭨﮫ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ ﺻﺮﻑ پاﻧﭻ ﻣﻨﭧ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﮬﻨﺴﯽ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﮐﻮ ﮔﻠﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮬﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﮬﻮﻧﭧ ﺭﮐﮫ ﺩﺋﯿﮯ۔ ﺩﻭ ﻣﻨﭧ ﮐﺴﻨﮓ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﯾﺎﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﮩﻦ ﺗﻮ ﺑﮭﺖ ﻻﻟﭽﯽ ﮬﯽ۔ ﮐﺘﻨﮯ ﺩﻥ ﺍﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﻭ ﮔﯽ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﯾﺎﺭ ﯾﮧ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ﺍﮔﺮ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﮧ ﺩﻭﮞ ﺗﻮ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﻞ ﮬﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﮐﮩﻮ ﺗﻮ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﻞ ﮬﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﺳﮯ ﺁﺝ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﻧﮭﯽ ﯾﺎﺭ ﻭﮦ ﺑﭽﯽ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﻧﮭﯽ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻻ ﯾﺎﺭ ﺗﻢ ﺑﮯﻓﮑﺮ ﺭﮬﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯽ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ ﺻﺮﻑ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ 200 ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﺩﮮ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻢ ﺍﺳﮯ ﮈﺭﺍﻧﺎ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺭﻭﺯ ﺭﻭﺯ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﮍﺍﻭ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﯾﺎﺭ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ 17 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﭽﯽ ﮬﯽ۔ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﻨﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﺘﮧ ﻧﮭﯽ ﻭﮦ ﻣﺎﻧﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻧﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ نے ﮐﮩﺎ ﺗﻢ ﺍﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻭ ﺍﻭﺭ ﺭﺟﻮ ﮐﮯ ﮬﺎﺗﮫ ﭼﺎﺋﮯ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺑﮭﯿﺠﻮ۔ ﺟﺐ ﺭﺟﻮ ﭼﺎﺋﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ، ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﻤﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﮩﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺟﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﮬﻮﮞ ﺁﺝ ﺗﻢ ﻧﮧ ﺁﻧﺎ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﺍﺿﯽ ﮬﻮ ﮔﺌﯽ ﮬﮯ ﺗﻢ 11 ﺑﺠﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﯾﮑﭩﯿﻨﮓ ﮐﺮﻧﺎ۔ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺩﮬﮍﮎ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﺩﮬﮯ ﭘﻮﻧﮯ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻢ ﺁﺟﺎﻧﺎ اﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﭘﮑﮍﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮭﯽ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﯽ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ، ﺁﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭘﯿﺴﮯ ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ ﺗﻮ ﺑﺘﺎﻭ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﻣﺠﮭﮯ 500 ﺭﻭﮨﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﮐﻞ ﺩﮮ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ 500 ﺭﻭﭘﮯ ﺩﺋﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺗﻢ ﻭﺍﭘﺲ،ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ۔ ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﺭﺟﻮ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ۔ 20 ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﺭﺟﻮ ﭼﺎﺋﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺭﺟﻮ ﺳﮯ ﭼﺎﺋﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮬﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﮭﯿﻨﭽﺎ ﻭﮦ ﮐﮭﺴﻤﺴﺎ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺎﻝ ﭘﺮ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮬﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ، ﺭﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﻮﮞ۔ ﻭﮦ ﺭﮎ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ ﺟﯽ ﺑﻮﻟﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺭﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮬﻮﮞ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﺟﯽ ﻧﮭﯽ ﺁﭖ ﺑﺎﺟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﻧﮭﯽ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﯾﺎﺭ ﺭﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﮬﻮ ﺑﺎﺟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﺒﻮﺭﺍً ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﻮﮞ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﺟﯽ ﻧﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮭﯽ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﮈﺭ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﺍﺿﯽ ﺑﺲ ﻧﺨﺮﮮ ﮐﺮ ﺭﮬﯽ ﮬﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﺍﻭ ﮐﮭﯿﻼ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﯾﺎﺭ ﺭﺟﻮ ﺍﮔﺮ ﺁﺝ ﺭﺍﺕ ﺗﻢ ﺁ ﺟﺎﻭ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻟﯽ ﻧﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮈﺭ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺟﯽ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﺎﺭ ﺩﮮ ﮔﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﺎﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﺎ ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭ 200 ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﺁﺟﺎﻧﺎ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﭘﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﻧﮯ ﺁﻧﺎ ﮬﮯ۔ ﻣﯿﮟ نے ﮐﮩﺎ ﺗﻢ ﺟﺎ ﮐﺮ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﮐﻮ ﻣﻨﻊ ﮐﺮ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﻧﮭﯽ ﮬﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﺟﺐ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﺳﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺁ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺳﯽ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﮬﮯ ﺍﮔﺮ ﯾﺎﺳﻤﯿﻦ ﺳﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺁﻭﮞ ﮔﯽ ﻭﺭﻧﮧ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻧﮧ ﮬﻮﻧﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﻢ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﺲ۔ ﻭﮦ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ میں ﻧﮯ ﭨﺎﺋﻢ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ 9 ﺑﺠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ، ﺳﮯ نﮑﻼ، ﺍﻭﺭ ﭘﯽ ﺳﯽ ﺁﻭ ﺳﮯ ﺑﺎﺟﯽ ﮐﺎ ﻧﻤﺒﺮ ﻣﻼﯾﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺟﯽ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﭧ ﮬﻮ ﺟﺎﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺍﻣﯽ ﮐﻮ، ﺍُﺩﮬﺮ ﮬﯽ ﺳﻼ ﻟﻮ ﺻﺒﺢ ﺁ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮬﻮﭨﻞ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺳﺎﮌﮬﮯ ﺩﺱ ﺑﺠﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﻮ ناول ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻓﯿﻮﺭﭦ ﻧﺎﻭﻝ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﻮﻧﮯ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﮭﻼﻧﮓ ﮐﺮ ﺁ ﺭﮬﺎ ﮬﻮ۔ ﭼﻨﺪ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﮬﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺭﺟﻮ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺝ ﺍﺳﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮬﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮬﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮬﻮﻧﭧ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ، ﻭﮦ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮬﭩﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮬﺎﺗﮫ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮬﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﺟﺎﻥ ﻧﮭﯽ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﺎ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮬﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮬﺘﯿﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﮐﺮ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﺁﭖ ﺑﮍﮮ ﮔﻨﺪﮮ ﮬﻮ میں ﮬﻨﺲ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﯾﺎﺭ ﭘﯿﺎﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﮬﯽ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮯ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ 100 ﻭﺍﻟﮯ ﭘﺎﻣﭻ ﻧﻮﭦ ﭘﮑﮍﺍﺋﮯ ﺗﻮ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮬﻮ ﮐﺮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﮉ ﮨﺮ ﻟﭩﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ میرﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮬﻮ ﺗﻮ ﺗﻤﯿﮟ 200 ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﻟﯿﮑﻦ۔ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﻭﮐﻮ ﮔﯽ ﻧﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ ﻭﯾﺴﮯ ﮐﺮﻭ ﮔﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻧﮕﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ ﻭﺍﻗﻌﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮬﺎ ﻭﺍﻗﻌﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﮦ ﻭﺍﻻ ﮐﺎﻡ ﺗﻮ ﻧﮭﯽ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺟﻮ ﺑﺎﺟﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﺑﮩﺖ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺐ ﺑﺎﺟﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ، ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ نہیں ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ۔ ﺑﮍﺍ ﺩﺭﺩ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﮬﻨﺴﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﯾﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﯿﮟ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﻡ ﻧﮭﯽ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮬﻮ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﮐﺮﻧﮯ ﺩﻭ۔ ﺭﻭﮐﻨﺎ ﻧﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﻠﯿﺰ ﺩﺭﺩ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ۔ ﺍﻭﮐﮯ ﮐﮧ ﮐﺮ ﻣﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﺴﻨﮓ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ۔ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﮬﻮ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮬﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﺗﮭﯽ پر ﺭﮐﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻤﮯ ﺑﮩﺖ ﮬﯽ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ ﺷﺎﺋﺪ 32 ﯾﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻮﭨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻗﻤﯿﺾ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮬﺎﺗﮫ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮎ ﻣﻤﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺑﮭﺖ ﮔﺮﻣﺎ ﮬﻮ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺷﺎﺋﺪ ﻓﺮﺳﭧ ﭨﺎﺋﻢ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺑﯿﭽﺎﺭﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﺝ ﺧﻮﺩ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ
